اللَّهُمَّ كُنْ لِوَلِيِّكَ الْحُجَّةِ بْنِ الْحَسَنِ صَلَواتُكَ عَلَيْهِ وَعَلَى آبائِه في هذِهِ السَّاعَةِ وَفي كُلِّ ساعَةٍ وَلِيّاً وَحافِظاً وَقائِداً وَناصِراً وَدَليلاً وَعَيْناً حَتَّى تُسْکِنَهُ أَرْضَكَ طَوْعاً وَتُمَتِّعَهُ فيها طَویلاً اللَّهُمَّ كُنْ لِوَلِيِّكَ الْحُجَّةِ بْنِ الْحَسَنِ صَلَواتُكَ عَلَيْهِ وَعَلَى آبائِه في هذِهِ السَّاعَةِ وَفي كُلِّ ساعَةٍ وَلِيّاً وَحافِظاً وَقائِداً وَناصِراً وَدَليلاً وَعَيْناً حَتَّى تُسْکِنَهُ أَرْضَكَ طَوْعاً وَتُمَتِّعَهُ فيها طَویلاً
بِسْمِ ٱللَّهِ ٱلرَّحْمَٰنِ ٱلرَّحِيمِ

غلامانِ امام مہدی علیہ السلام

منتظرینِ امامِ وقتؑ کے لیے ایک علمی، تحقیقی و روحانی پلیٹ فارم

بیت المقدس کا معاملہ ”صرف تنقید سے کام نہیں چلے گا،


بیت المقدس کا معاملہ ”صرف تنقید سے کام نہیں چلے گا، اب ہمیں مل کر امریکہ پر یہ پابندی لگانا پڑے گی“ لبنان نے مسلم دنیا کو راستہ دکھا دیا، وہ کام کرنے کا اعلان کر دیا کہ جان کر ہی امریکہ کے ہوش اڑ جائیں گے
بیروت(مانیٹرنگ ڈیسک) ڈونلڈٹرمپ کی طرف سے بیت المقدس کو اسرائیل کا دارالحکومت تسلیم کرنے پر عرب لیگ کا ہنگامی اجلاس منعقد ہوا، جس میں لبنان نے مسلم دنیا کو امریکہ کے خلاف ایسا راستہ دکھا دیا ہے کہ جان کر ہی امریکیوں کے ہوش اڑ جائیں گے۔ عالمی خبررساں ایجنسی رائٹرز کی رپورٹ کے مطابق لبنانی وزیرخارجہ جبران باسل نے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے مسلم ممالک سے مطالبہ کیا کہ ”اب امریکہ پر محض تنقید سے کام نہیں چلے گا۔ ہم سب کو مل کر اس پر معاشی پابندیاں عائد کرنی ہوں گی تاکہ اسے اپنا سفارتخانہ تل ابیب سے بیت المقدس منتقل کرنے سے روکا جاسکے۔“
جبران باسل کا کہنا تھا کہ ”اب ہمیں لازمی طور پر ہر طرح کے پیشگی اقدامات کرنے ہوں گے، ابتداءمیں ہمیں امریکہ سے سفارتی تعلقات منقطع کرنے ہوں گے، پھر سیاسی بائیکاٹ اور پھر اس پر معاشی ومالی پابندیاں عائد کرنا ہوں گی۔“ یہاں یہ امر بھی قابل ذکر ہے کہ عرب لیگ کے اجلاس کے بعد جو اعلامیہ جاری کیا گیا اس میں امریکہ پر پابندیوں کے حوالے سے کوئی بات نہیں کہی گئی
📅 December 11, 2017
پورا پڑھیں