اللَّهُمَّ كُنْ لِوَلِيِّكَ الْحُجَّةِ بْنِ الْحَسَنِ صَلَواتُكَ عَلَيْهِ وَعَلَى آبائِه في هذِهِ السَّاعَةِ وَفي كُلِّ ساعَةٍ وَلِيّاً وَحافِظاً وَقائِداً وَناصِراً وَدَليلاً وَعَيْناً حَتَّى تُسْکِنَهُ أَرْضَكَ طَوْعاً وَتُمَتِّعَهُ فيها طَویلاً اللَّهُمَّ كُنْ لِوَلِيِّكَ الْحُجَّةِ بْنِ الْحَسَنِ صَلَواتُكَ عَلَيْهِ وَعَلَى آبائِه في هذِهِ السَّاعَةِ وَفي كُلِّ ساعَةٍ وَلِيّاً وَحافِظاً وَقائِداً وَناصِراً وَدَليلاً وَعَيْناً حَتَّى تُسْکِنَهُ أَرْضَكَ طَوْعاً وَتُمَتِّعَهُ فيها طَویلاً
بِسْمِ ٱللَّهِ ٱلرَّحْمَٰنِ ٱلرَّحِيمِ

غلامانِ امام مہدی علیہ السلام

منتظرینِ امامِ وقتؑ کے لیے ایک علمی، تحقیقی و روحانی پلیٹ فارم

’امریکی جارحانہ بیانات دہشت گردی کے خلاف جنگ میں سود مند ثابت نہیں ہوں گے‘



صدر ٹرمپ کی پاکستان مخالف ٹویٹ پر جمعرات کو پاکستانی پارلیمان کی قومی سلامتی کی کمیٹی کا ان کیمرہ اجلاس منعقد ہوا ہے۔
اجلاس میں وزیر خارجہ خواجہ محمد آصف نے پارلیمانی رہنماؤں کو منگل کو قومی سلامتی کمیٹی اور بدھ کو وفاقی کابینہ کے اجلاس میں ہونے والے فیصلوں سے متعلق آگاہ کیا۔
دوسری جانب بین الاقوامی ذرائع ابلاغ کے مطابق ٹرمپ انتظامیہ نے پاکستان کو دی جانے والی عسکری امداد بند کرنے کا فیصلہ کیا ہے اور اس ضمن میں امریکی کانگریس کے ارکان کو آگاہ بھی کیا جا رہا ہے۔
پاکستان میں قومی سلامتی امور سے متعلق حالیہ دنوں منعقد ہونے والی ملاقاتوں کی وجہ سال نو کے آغاز پر امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی وہ ٹویٹ تھی جس میں انھوں نے کہا تھا کہ 'امریکہ نے 15 سالوں میں پاکستان کو 33 ارب ڈالر بطور امداد دے کر بےوقوفی کی۔ انھوں نے ہمیں سوائے جھوٹ اور دھوکے کے کچھ نہیں دیا۔
صدر ٹرمپ کی اس ٹویٹ کے بعد اقوام متحدہ میں امریکہ کی مسقتل سفیر نکی ہیلی نے پاکستان پر ڈبل گیم کھیلنے کا الزام عائد کرتے ہوئے تصدیق کی تھی کہ پاکستان کو دی جانے والی 255 ملین ڈالر کی عسکری امداد روکی جا رہی ہے۔
ان کے اس بیان کے بعد وائٹ ہاؤس کی ترجمان کا کہنا تھا کہ پاکستان کے حوالے سے ٹرمپ انتظامیہ آئندہ 24 سے 48 گھنٹوں میں مزید اقدامات بھی کرے گی۔
خبر رساں ادارے روئٹرز کے مطابق ٹرمپ انتظامیہ نے پاکستان کو دی جانے والی عسکری امداد بند کرنے کا فیصلہ کر لیا ہے اور اس ضمن میں امریکی کانگریس کے ارکان کو آگاہ بھی کیا جا رہا ہے جبکہ اس حوالے سے باضابطہ اعلان جمعرات تک متوقع ہے۔
روئٹرز کے مطابق کانگریس کے دفاتر میں موجود ذرائع نے بتایا ہے کہ امریکی محکمہ خارجہ نے انھیں اطلاع دی ہے کہ پاکستان کی امداد بند کرنے کا اعلان جمعرات کو کیا جائے گا لیکن یہ نہیں بتایا گیا کہ کتنی امداد بند ہو گی، کون سی ہو گی اور کتنے عرصے تک بند رہے گی۔




📅 January 07, 2018
پورا پڑھیں

آرمی چیف کو ملکی تاریخ میں پہلی بار سینیٹ بلایا گیا۔ سینٹ کو کئی معاملات پر تشویش تھی جنکا تسلی بخش جواب دیا گیا۔ چند ایک پیش خدمت ہیں۔

آرمی چیف کو ملکی تاریخ میں پہلی بار سینیٹ بلایا گیا۔ سینٹ کو کئی معاملات پر تشویش تھی جنکا تسلی بخش جواب دیا گیا۔ چند ایک پیش خدمت ہیں۔

اندرونی سیکیورٹی کے لیے کیا گیا اب تک ؟

" آپریشن ضرب عضب، آپریشن ردالفساد اور نیشنل ایکشن پلان پر پاک فوج اپنے حصے کام کام بخوبی نمٹایا۔ صرف آپریشن ردالفساد کے تحت اب تک پنجاب میں 13011 اور خیبرپختونخوا اور فاٹا میں 1249 کومبنگ اورانٹیلی جنس آپریشن کیے گئے۔ ان آپریشنز میں ہزاروں ٹن باردو، 19000 ہتھیار اور سینکڑوں دہشت گرد مارے اور پکڑے گئے۔ نتیجے میں ملک میں امن و امان کی صورتحال میں بہتری آئی"

آرمی عدالتوں نے اب تک کیا کیا؟

"فوجی عدالتوں نے اب تک 274 مقدمات کا فیصلہ کیا۔ 161 مجرموں کو سزائے موت سنائی گئی جن میں سے 56 مجرموں کو پھانسی دی گئی۔ جنرل قمر جاوید باجوہ کے آرمی چیف بننے کے بعد فوجی عدالتوں کو 160 مقدمات بھیجوائے گئے، جن میں سے 33 پر فیصلہ سنایا گیا، 8 کو سزائے موت اور 25 کو قید کی سزائی دی گئی "

باہر کے دورے کیوں کیے؟

"اہم ممالک کے دورے فوجی سفارتکاری کاحصہ ہیں، علاقائی ممالک سے تعلقات میں بہتری کیلئے دورے معاون ثابت ہوئے. افغانستان میں ہونے والی تبدیلیوں کو کسی صورت نظر انداز نہیں کر سکتے، بارڈرمینجمنٹ پاک افغان سرحدکومحفوظ بنانے کے لئے نا گزیر ہے"

اسلامی اتحاد کیوں بنایا گیا ہے؟

"41 اسلامی ممالک کا اتحاد کسی کے خلاف نہیں ، ابھی اس کے ٹی او آرز طے ہونا باقی ہیں۔ ایران اور سعودی عرب کی لڑائی نہیں ہوگی اور نہ ہی ہم ایسا ہونے دیں گے ان شاءاللہ "

دھرنے میں کیوں دخل اندازی کی کیا دھرنے کے پیچھے آپ تھے؟

" دھرنے میں وزیراعظم کے حکم پر مداخلت کی اور وہ تمام اقدامات سے باخبر رہے۔ دھرنے کے پیچھے پاک فوج ثابت ہوئی تو میں استعفی دے دونگا"

آپ بجٹ کا بڑا حصہ لے جاتے ہیں؟

" پاک فوج کو کل بجٹ کا صرف 18 فیصد ملتا ہے جس میں سے آٹھ آعشاریہ تین فیصد بری فوج کو جاتا ہے۔ فوج کے تحت چلنے والے ادارے 177 ارب روپے ٹیکس ادا کرتے ہیں جو سب سے زیادہ ہے"

۔۔۔۔۔۔۔۔ لوجی ۔۔۔۔۔ ہوگئی تسلی  ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ؟؟؟؟؟؟؟؟

اب جناب چیرمین سینٹ صاحب پاکستان میں کچھ اور معاملات بھی ایسے ہیں جن پر آپ کو نہ صرف تشویش ہونی چاہئے بلکہ ذمہ داروں کو بھی طلب کرنا چاہئے ۔۔۔۔۔ مثلاً ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

نیشنل ایکشن پلان میں سول حکومت کے ذمے 17 نقاط میں سے کسی ایک پر بھی عمل درآمد نہیں کیا گیا،

عدالتوں میں 11000 سے زائد دہشت گردوں کے مقدمات زیر التوا ہیں اور تقریباً تمام پکڑے جانےوالے سہولت کار ضمانتیں پا کر رہا ہوچکے ہیں،

چار سال تک پاکستان کا وزیرخارجہ ہی مقرر نہیں کیا گیا، جسکا ناقابل تلافی نقصان ہوا، کل بھوشن اور کشمیر پر مسلسل خاموشی اختیار کیے رکھی،

35 ارب ڈالر قرضہ، موٹر ویز اور اہم قومی عمارات گروی رکھی گئیں، بجٹ کا خسارہ 32 ارب ڈالر ہوچکا ہے اور ریاست دیوالیہ ہونے کے قریب ہے،

کسی ایک ڈیم پر کام نہیں ہوا، بجلی کے تمام بڑے منصوبے ناکام بنا دئیے گئے،

2 کروڑ سے زائد پاکستانیوں کو ھیپائٹس سی اور صرف سندھ میں ایک لاکھ سے زائد لوگوں کو ایڈز ہے،

60 فیصد پاکستانی آرسینک ملا پانی اور 95 فیصد پاکستانی فارمیلین ملا دودھ پی رہے ہیں،

قبول اسلام پر پابندی لگائی گئی، ختم نبوت کے خلاف سازش کی گئی،

کیا ان کے ذمہ داروں کو طلب کرنے کی زحمت کرینگے؟؟؟؟؟/

جناب عالی   ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

سپاہ سالار نے یہ کہہ کر آپ سمیت تمام جمہوریوں کے منہ پہ زوردار تھپڑ مارا ہے کہ ۔۔۔۔ " پالیسی آپ بنائیں عمل ہم کرینگے " ۔۔۔

کیا آپ بتانا پسند کرینگے کہ امریکہ، افغانستان، ایران اور انڈیا کے حوالے سے درحقیقت آپ نے کیا پالیسی بنائی ہے۔۔۔۔۔۔۔؟؟؟

📅 December 21, 2017
پورا پڑھیں

مسجد اقصی کی مختصر تاریخ و تعارف


مسجد اقصی کی مختصر تاریخ و تعارف
مسجد اقصی مسلمانوں کا قبلہ اول اور خانہ کعبہ اورمسجد نبوی کے بعد تیسرا مقدس ترین مقام ہے۔
مقامی مسلمان اسے المسجد الاقصیٰ یا حرم قدسی شریف(عربی: الحرم القدسی الشریف) کہتے ہیں۔ یہ مشرقییروشلم میں و ہ جس پر اسرائیل کا قبضہ ہے۔ یہ یروشلم کی سب سے بڑی مسجد ہے جس میں 5 ہزار نمازیوں کی گنجائش ہے جبکہ مسجد کے صحن میں بھی ہزاروں افراد نماز ادا کرسکتے ہیں۔ 2000ء میں الاقصیٰ انتفاضہ کے آغاز کے بعد سے یہاں غیر مسلموں کا داخلہ ممنوع ہے۔

حضرت محمد صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سفر معراج کے دوران مسجد حرام سے یہاں پہنچے تھے اور مسجد اقصیٰ میں تمام انبیاء کی نماز کی امامت کرنے کے بعد براق کے ذریعے سات آسمانوں کے سفر پر روانہ ہوئے۔
قرآن مجید کی سورہ الاسراء میں اللہ تعالٰی نے اس مسجد کا ذکر ان الفاظ میں کیا ہے:
”پاک ہے وہ ذات جو اپنے بندے کورات ہی رات میں مسجد حرام سے مسجد اقصی لے گئی جس کے آس پاس ہم نے برکت دے رکھی ہے اس لئے کہ ہم اسے اپنی قدرت کے بعض نمونے دکھائيں یقینا اللہ تعالٰی ہی خوب سننے والا اوردیکھنے والا ہے (سورہ الاسراء آیت نمبر 1)“
احادیث کے مطابق دنیا میں صرف تین مسجدوں کی جانب سفر کرنا باعث برکت ہے جن میں مسجد حرام، مسجد اقصٰی اور مسجد نبوی شامل ہیں۔
حضرت ابوذر سے حدیث مروی ہے کہ 
”میں نے رسول اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم سے پوچھا کہ زمین میں سب سے پہلے کون سی مسجد بنائی گئی؟
تو نبی صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے فرمایا : مسجد حرام ( بیت اللہ ) تو میں نے کہا کہ اس کے بعد کونسی ہے ؟ تو نبی صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم فرمانے لگے : مسجد اقصیٰ ، میں نے سوال کیا کہ ان دونوں کے درمیان کتنا عرصہ ہے ؟ تو نبی صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے فرمایا کہ چالیس سال، پھرجہاں بھی تمہیں نماز کا وقت آجائے نماز پڑھ لو کیونکہ اسی میں فضیلت ہے ۔ (صحیح بخاری حدیث نمبر 3366، صحیح مسلم حدیث نمبر 520)
مسجد اقصیٰ مسلمانوں کا قبلۂ اول ہے اور معراج میں نماز کی فرضیت 16 سے 17 ماہ تک مسلمان مسجد اقصٰی کی جانب رخ کرکے ہی نماز ادا کرتے تھے پھر تحویل قبلہ کا حکم آنے کے بعد مسلمانوں کا قبلہ خانہ کعبہ ہوگیا۔
جب عمر فاروق کے دور میں مسلمانوں نے بیت المقدس فتح کیا تو حضرت عمر نے شہر سے روانگی کے وقت صخرہ اور براق باندھنے کی جگہ کے قریب مسجد تعمیر کرنے کا حکم دیا جہاں انہوں نے اپنے ہمراہیوں سمیت نماز ادا کی تھی۔ مسجد اقصٰی سے بالکل قریب ہونے کی وجہ سے یہی مسجد بعد میں مسجد اقصٰی کہلائی کیونکہ قرآن مجید کی سورہ بنی اسرائیل کے آغاز میں اس مقام کو مسجد اقصٰی کہا گیا ہے۔
اس دور میں بہت سے صحابہ نے تبلیغ اسلام اور اشاعت دین کی خاطر بیت المقدس میں اقامت اختیار کی۔
مسجداقصٰی کا بانی حضرت یعقوب کو مانا جاتا ہے اور اسکی تجدید حضرت سلیمان نے کی۔
بعد میں خلیفہ عبد الملک بن مروان نے مسجد اقصٰی کی تعمیر شروع کرائی اور خلیفہ ولید بن عبد الملک نے اس کی تعمیر مکمل کی اور اس کی تزئین و آرائش کی۔ عباسی خلیفہ ابو جعفر منصور نے بھی اس مسجد کی مرمت کرائی۔
پہلی صلیبی جنگ کے بعد جب عیسائیوں کا بیت المقدس پر قبضہ ہو گیا تو انہوں نے مسجد اقصٰی میں بہت رد و بدل کیا۔ انہوں نے مسجد میں رہنے کے لیے کئی کمرے بنا لیے اور اس کا نام معبد سلیمان رکھا، نیز متعدد دیگر عمارتوں کا اضافہ کیا جو بطور جائے ضرورت اور اناج کی کوٹھیوں کے استعمال ہوتی تھیں۔ انہوں نے مسجد کے اندر اور مسجد کے ساتھ ساتھ گرجا بھی بنا لیا۔
سلطان صلاح الدین ایوبی نے2 اکتوبر 1187ء کو فتح بیت المقدس کے بعد مسجد اقصٰی کو عیسائیوں کے تمام نشانات سے پاک کیا
اور محراب اور مسجد کو دوبارہ تعمیر کیا۔
مسجد اقصی کے نام کا اطلاق پورے حرم قدسی پر ہوتا تھا جس میں سب عمارتیں جن میں اہم ترین قبۃ الصخرۃ ہے جواسلامی طرز تعمیر کے شاندار نمونوں میں شامل ہے ۔ تاہم آجکل یہ نام حرم کے جنوبی جانب والی بڑی مسجد کے بارے میں کہا جاتا ہے ۔
وہ مسجد جو نماز کی جگہ ہے وہ قبۃ الصخرۃ نہیں، لیکن آج کل قبہ کی تصاویر پھیلنے کی بنا پر اکثر مسلمان اسے ہی مسجد اقصیٰ خیال کرتے ہيں حالانکہ فی الواقع ایسی کوئی بات نہیں مسجد تو بڑے صحن کے جنوبی حصہ میں اور قبہ صحن کے وسط میں ایک اونچی جگہ پر واقع ہے۔
زمانہ قدیم میں مسجد کا اطلاق پورے صحن پرہو تا تھا اور اس کی تائيد امام ابن تیمیہ کے اس بیان سے بھی ہوتی ہے کہ:
”مسجد اقصی اس ساری مسجد کا نام ہے جسے سليمان علیہ السلام نے تعمیر کیا تھا اور بعض لوگ اس مصلی یعنی نماز پڑھنے کی جگہ کو جسے عمر بن خطابرضی اللہ تعالٰی عنہ نےاس کی اگلی جانب تعمیر کیا تھا اقصی کا نام دینے لگے ہیں ، اس جگہ میں جسے عمربن خطاب رضي اللہ تعالٰی عنہ نے تعمیر کیا تھا نمازپڑھنا باقی ساری مسجد میں نماز پڑھنے سے افضل ہے۔“
بیت المقدس 1 اگست 1967 کو اسرائیلی قبضے میں چلا گیا جو آج تک جاری ہے۔
21 اگست 1969ء کو ایک آسٹریلوی یہودی ڈینس مائیکل روحان نے قبلۂ اول کو آگ لگا دی جس سے مسجد اقصیٰ تین گھنٹے تک آگ کی لپیٹ میں رہی اور جنوب مشرقی جانب عین قبلہ کی طرف کا بڑا حصہ گر پڑا۔ محراب میں موجود منبر بھی نذر آتش ہوگیا جسے صلاح الدین ایوبی نے فتح بیت المقدس کے بعد نصب گیا تھا۔
صلاح الدین ایوبی نے قبلہ اول کی آزادی کے لئے تقریبا 16 جنگیں لڑیں اور ہر جنگ کے دوران وہ اس منبر کو اپنے ساتھ رکھتے تھے تا کہ فتح ہونے کے بعد اس کو مسجد میں نصب کریں۔
اس المناک واقعہ کے بعد خواب غفلت میں ڈوبی ہوئی امت مسلمہ کی آنکھ ایک لمحے کے لئے بیدار ہوئی اور سانحے کے تقریبا ایک ہفتے بعد اسلامی ممالک نے موتمر عالم اسلامی (او آئی سی) قائم کر دی۔
یہودی اس مسجد کو ہیکل سلیمانی کی جگہ تعمیر کردہ عبادت گاہ سمجھتے ہیں اور اسے گرا کر دوبارہ ہیکل سلیمانی تعمیر کرنا چاہتے ہیں حالانکہ وہ کبھی بھی بذریعہ دلیل اس کو ثابت نہیں کرسکے کہ ہیکل سلیمانی یہیں تعمیر تھا۔
📅 December 13, 2017
پورا پڑھیں

ﯾﺮﻭﺷﻠﻢ ﯾﻮﻧﮩﯽ ﺭﮨﮯ ﮔﺎ ﺍﻭﺭ ﮨﻢ ﺑﮭﯽ 09-12-2017 ﻭﺳﻌﺖ ﺍﻟﻠﮧ ﺧﺎن

ﯾﺮﻭﺷﻠﻢ ﯾﻮﻧﮩﯽ ﺭﮨﮯ ﮔﺎ ﺍﻭﺭ ﮨﻢ
ﺑﮭﯽ
09-12-2017 ﻭﺳﻌﺖ ﺍﻟﻠﮧ ﺧﺎﻥ

ﺑﺮﻃﺎﻧﻮﯼ ﻭﺯﯾﺮِ ﺍﻋﻈﻢ ﺗﮭﺮﯾﺴﺎ ﻣﮯ ﻧﮯ ﺻﺪﺭ ﭨﺮﻣﭗ ﮐﯽ
ﺟﺎﻧﺐ ﺳﮯ ﺑﯿﺖ ﺍﻟﻤﻘﺪﺱ ﮐﻮ ﺍﺳﺮﺍﺋﯿﻞ ﮐﺎ ﻣﺴﺘﻘﻞ
ﺩﺍﺭﻟﺤﮑﻮﻣﺖ ﺗﺴﻠﯿﻢ ﮐﺮﻧﮯ ﺍﻭﺭ ﺗﻞ ﺍﺑﯿﺐ ﺳﮯ ﺍﻣﺮﯾﮑﯽ
ﺳﻔﺎﺭﺕ ﺧﺎﻧﮧ ﺑﯿﺖ ﺍﻟﻤﻘﺪﺱ ﻣﻨﺘﻘﻞ ﮐﺮﻧﮯ ﮐﮯ ﺍﻋﻼﻥ ﮐﻮ
ﺍﻓﺴﻮﺳﻨﺎﮎ ﺍﻭﺭ ﻋﺎﺟﻼﻧﮧ ﻗﺮﺍﺭ ﺩﯾﺎ ﮨﮯ۔
ﻣﺠﮭﮯ ﺩﻧﯿﺎ ﮐﮯ ﮨﺮ ﻣﻠﮏ ﮐﯽ ﺟﺎﻧﺐ ﺳﮯ ﭨﺮﻣﭗ ﮐﮯ
ﺍﻋﻼﻥ ﮐﯽ ﻣﺬﻣﺖ ﭘﺮ ﺟﺘﻨﯽ ﺧﻮﺷﯽ ﮨﮯ ﺍﺗﻨﺎ ﮨﯽ ﺻﺪﻣﮧ
ﺗﮭﺮﯾﺴﺎ ﻣﮯ ﮐﯽ ﺟﺎﻧﺐ ﺳﮯ ﺍﻇﮩﺎﺭِ ﻣﺬﻣﺖ ﭘﺮ ﺑﮭﯽ ﮨﮯ۔
ﺍٓﺝ ﺳﮯ ﭨﮭﯿﮏ ﺳﻮ ﺑﺮﺱ ﭘﮩﻠﮯ ﺩﻭ ﻧﻮﻣﺒﺮ 1917 ﺋﮑﻮ
ﺑﺮﻃﺎﻧﻮﯼ ﻭﺯﯾﺮِ ﺧﺎﺭﺟﮧ ﻻﺭﮈ ﺑﺎﻟﻔﻮﺭ ﻧﮯ ﺑﺮﻃﺎﻧﻮﯼ
ﯾﮩﻮﺩﯾﻮﮞ ﮐﮯ ﺭﮨﻨﻤﺎ ﺍﻭﺭ ﺻﯿﮩﻮﻧﯽ ﻧﻈﺮﯾﮯ ﮐﮯ ﻣﺮﮐﺰﯼ
ﺳﺘﻮﻥ ﻻﺭﮈ ﻭﺍﻟﭩﺮ ﺭﻭﺗﮫ ﭼﺎﺋﻠﮉ ﮐﻮ ﺳﮍﺳﭩﮫ ﺻﻔﺤﮯ ﮐﺎ ﻭﮦ
ﺗﺎﺭﯾﺨﯽ ﺧﻂ ﺑﮭﯿﺠﺎ ﺟﺲ ﻣﯿﮟ ﺗﺴﻠﯿﻢ ﮐﯿﺎ ﮔﯿﺎ ﮐﮧ ﯾﮩﻮﺩﯾﻮﮞ
ﮐﻮ ﻓﻠﺴﻄﯿﻦ ﻭﺍﭘﺴﯽ ﺍﻭﺭ ﻭﮨﺎﮞ ﺍﭘﻨﯽ ﻣﻤﻠﮑﺖ ﺑﻨﺎﻧﮯ ﮐﺎ
ﺣﻖ ﮨﮯ۔ ﺟﺲ ﻭﻗﺖ ﯾﮧ ﺧﻂ ﻟﮑﮭﺎ ﮔﯿﺎ ﻓﻠﺴﻄﯿﻦ ﺳﻠﻄﻨﺖِ
ﻋﺜﻤﺎﻧﯿﮧ ﮐﺎ ﺣﺼﮧ ﺗﮭﺎ۔ ﮔﻮﯾﺎ ﮐﺴﯽ ﺍﻭﺭ ﮐﮯ ﻋﻼﻗﮯ ﮐﻮ
‏( ﻋﺜﻤﺎﻧﯽ‏) ﮐﺴﯽ ﺍﻭﺭ ﻧﮯ ‏( ﺑﺮﻃﺎﻧﯿﮧ‏) ﮐﺴﯽ ﺍﻭﺭ ﮐﻮ
‏( ﯾﮩﻮﺩﯼ‏) ﺍﻻﭦ ﮐﺮﺩﯾﺎ۔
ﺍﺱ ﺍﻋﻼﻥ ﮐﮯ ﭨﮭﯿﮏ ﭼﺎﻟﯿﺲ ﺭﻭﺯ ﺑﻌﺪ ﺑﺮﻃﺎﻧﻮﯼ ﺟﻨﺮﻝ
ﺳﺮ ﺍﯾﮉﻣﻨﮉ ﺍﯾﻠﻦ ﺑﯽ ﺑﯿﺖ ﺍﻟﻤﻘﺪﺱ ﻣﯿﮟ ﻓﺎﺗﺤﺎﻧﮧ ﺩﺍﺧﻞ ﮨﻮﺍ
ﺍﻭﺭ ﻭﺯﯾﺮِ ﺍﻋﻈﻢ ﮈﯾﻮﮈ ﻻﺋﮉ ﺟﺎﺭﺝ ﻧﮯ ﮐﮩﺎ ’’ ﺩﻧﯿﺎ ﮐﮯ
ﻣﺸﮩﻮﺭ ﺗﺮﯾﻦ ﺷﮩﺮ ﭘﺮ ﻗﺒﻀﮯ ﮐﮯ ﺑﻌﺪ ﻣﺴﯿﺤﯽ ﺩﻧﯿﺎ ﻧﮯ
ﻣﻘﺪﺱ ﻣﻘﺎﻣﺎﺕ ﮐﻮ ﺩﻭﺑﺎﺭﮦ ﺣﺎﺻﻞ ﮐﺮ ﻟﯿﺎ ﮨﮯ ‘‘۔ ﺍﻣﺮﯾﮑﯽ
ﺍﺧﺒﺎﺭ ﻧﯿﻮﯾﺎﺭﮎ ﮨﯿﺮﻟﮉ ﮐﯽ ﺳﺮﺧﯽ ﺗﮭﯽ ’’ ﺑﺮﻃﺎﻧﯿﮧ ﻧﮯ ﭼﮫ
ﺳﻮ ﺗﮩﺘﺮ ﺑﺮﺱ ﮐﮯ ‏(ﻣﺴﻠﻢ‏) ﺍﻗﺘﺪﺍﺭ ﮐﮯ ﺑﻌﺪ ﯾﺮﻭﺷﻠﻢ
ﮐﻮ ﺍٓﺯﺍﺩ ﮐﺮﺍ ﻟﯿﺎ۔ ﻣﺴﯿﺤﯽ ﺩﻧﯿﺎ ﻣﯿﮟ ﺧﻮﺷﯽ ﮐﯽ
ﺯﺑﺮﺩﺳﺖ ﻟﮩﺮ ﺩﻭﮌ ﮔﺌﯽ ‘‘۔
ﺍﮔﻠﮯ ﺗﯿﺲ ﺑﺮﺱ ﺗﮏ ﻓﻠﺴﻄﯿﻦ ﺑﺮﻃﺎﻧﯿﮧ ﮐﮯ ﻗﺒﻀﮯ ﻣﯿﮟ
ﺭﮨﺎ ﺍﻭﺭ ﯾﮩﻮﺩﯼ ﯾﻮﺭﭖ ﺳﮯ ﺍٓ ﺍٓ ﮐﺮ ﯾﮩﺎﮞ ﺍٓﺑﺎﺩ ﮨﻮﺗﮯ ﺭﮨﮯ۔
ﯾﮧ ﻭﮦ ﺗﺤﻔﮧ ﺗﮭﺎ ﺟﻮ ﺑﺮﻃﺎﻧﯿﮧ ﻧﮯ ﻋﺮﺑﻮﮞ ﮐﻮ ﺳﻠﻄﻨﺖِ
ﻋﺜﻤﺎﻧﯿﮧ ﮐﮯ ﺧﻼﻑ ﺑﺮﻃﺎﻧﯿﮧ ﮐﯽ ﺣﻤﺎﯾﺖ ﻣﯿﮟ ﮐﮭﮍﮮ
ﮨﻮﻧﮯ ﭘﺮ ﺩﯾﺎ۔ ﺟﺐ ﯾﮩﻮﺩﯾﻮﮞ ﮐﯽ ﺗﻌﺪﺍﺩ ﺍﺗﻨﯽ ﮨﻮﮔﺌﯽ ﮐﮧ
ﻭﮦ ﺍﯾﮏ ﭼﮭﻮﭨﯽ ﺳﯽ ﻣﻤﻠﮑﺖ ﻗﺎﺋﻢ ﮐﺮﻧﮯ ﮐﮯ ﻗﺎﺑﻞ ﮨﻮ
ﺳﮑﯿﮟ ﺗﻮ ﺑﺮﻃﺎﻧﻮﯼ ﺍﻧﭩﯿﻠﯽ ﺟﯿﻨﺲ ﮐﯽ ﻧﺎﮎ ﮐﮯ ﻧﯿﭽﮯ
ﯾﮩﻮﺩﯼ ﺍﻧﺘﮩﺎ ﭘﺴﻨﺪ ﺗﻨﻄﯿﻤﻮﮞ ﮨﮕﺎﻧﮧ ﺍﻭﺭ ﺳﭩﯿﺮﻥ ﮔﯿﻨﮓ ﻧﮯ
ﻓﻠﺴﻄﯿﻨﯿﻮﮞ ﮐﻮ ﺍﻥ ﮐﯽ ﺍﺟﺪﺍﺩﯼ ﺍﻣﻼﮎ ﺳﮯ ﮐﮭﺪﯾﮍﻧﮯ ﮐﺎ
ﮐﺎﻡ ﺷﺮﻭﻉ ﮐﯿﺎ۔
ﻋﯿﻦ ﺍﺱ ﻭﻗﺖ ﻧﯿﺎ ﻧﯿﺎ ﺍﻗﻮﺍﻡِ ﻣﺘﺤﺪﮦ ﺑﯿﭻ ﻣﯿﮟ ﺻﻠﺢ ﺻﻔﺎﺋﯽ
ﮐﮯ ﻟﯿﮯ ﮐﻮﺩ ﮔﯿﺎ ﺍﻭﺭ ﺍﺱ ﻧﮯ ﻗﺎﺑﺾ ﺍﻭﺭ ﻣﻘﺒﻮﺽ ﮐﯽ
ﺗﻤﯿﺰ ﮐﯿﮯ ﺑﻐﯿﺮ ﻣﺌﯽ 1947 ﺀ ﻣﯿﮟ ﻓﻠﺴﻄﯿﻦ ﮐﯽ ﺗﻘﺴﯿﻢ
ﮐﮯ ﻣﻨﺼﻮﺑﮯ ﮐﺎ ﺍﻋﻼﻥ ﮐﺮ ﺩﯾﺎ۔ ﺍﺱ ﻣﻨﺼﻮﺑﮯ ﮐﮯ ﺗﺤﺖ
ﺟﻮ ﻋﻼﻗﮯ ﺟﺲ ﻓﺮﯾﻖ ﮐﻮ ﻣﻠﻨﮯ ﺗﮭﮯ ﻭﮦ ﺗﻮ ﻣﻠﻨﮯ ﮨﯽ
ﺗﮭﮯ ﻣﮕﺮ ﺍﯾﮏ ﺳﻔﺎﺭﺵ ﯾﮧ ﺑﮭﯽ ﺗﮭﯽ ﮐﮧ ﭼﻮﻧﮑﮧ ﺑﯿﺖ
ﺍﻟﻤﻘﺪﺱ ﺗﯿﻦ ﺍﻟﮩﺎﻣﯽ ﻣﺬﺍﮨﺐ ﮐﺎ ﻣﻘﺪﺱ ﺷﮩﺮ ﮨﮯ ﻟﮩﺬﺍ ﯾﮧ
ﺷﮩﺮ ﮐﺴﯽ ﺍﯾﮏ ﻓﺮﯾﻖ ﮐﻮ ﺩﯾﻨﮯ ﮐﮯ ﺑﺠﺎﺋﮯ ﺑﯿﻦ
ﺍﻻﻗﻮﺍﻣﯽ ﺍﻧﺘﻈﺎﻡ ﮐﮯ ﺗﺤﺖ ﺭﮐﮭﺎ ﺟﺎﺋﮯ ﺗﺎ ﮐﮧ ﮨﺮ ﻣﺬﮨﺐ
ﮐﮯ ﺯﺍﺋﺮﯾﻦ ﯾﮩﺎﮞ ﺑﻼ ﺭﮐﺎﻭﭦ ﺍٓ ﺟﺎ ﺳﮑﯿﮟ۔
ﺍﺳﺮﺍﺋﯿﻠﯽ ﺭﮨﻨﻤﺎ ﮈﯾﻮﮈ ﺑﻦ ﮔﻮﺭﯾﺎﻥ ﻧﮯ ﯾﮧ ﺗﺠﻮﯾﺰ ﺟﮭﭧ
ﺳﮯ ﻣﺎﻥ ﻟﯽ ﮐﯿﻮﻧﮑﮧ ﺍﺱ ﻭﻗﺖ ﺗﮏ ﺍﺳﺮﺍﺋﯿﻞ ﮐﻮ ﭘﯿﺮ
ﭨﮑﺎﻧﮯ ﮐﯽ ﺟﮕﮧ ﻧﮧ ﺻﺮﻑ ﻣﻞ ﭼﮑﯽ ﺗﮭﯽ ﺑﻠﮑﮧ ﺍﻗﻮﺍﻡِ
ﻣﺘﺤﺪﮦ ﻧﮯ ﺑﮭﯽ ﺍﻥ ﮐﺎ ﻗﺎﻧﻮﻧﯽ ﺣﻖ ﺗﺴﻠﯿﻢ ﮐﺮ ﻟﯿﺎ ﺗﮭﺎ۔
ﺗﺎﮨﻢ ﻓﻠﺴﻄﯿﻨﯽ ﻗﯿﺎﺩﺕ ‏( ﻣﻔﺘﯽ ﺍﻋﻈﻢ ﺍﻣﯿﻦ ﺍﻟﺤﺴﯿﻨﯽ
ﻭﻏﯿﺮﮦ‏) ﻧﮯ ﺍﺱ ﺗﺠﻮﯾﺰ ﮐﻮ ﯾﮧ ﮐﮩﮧ ﮐﺮ ﻣﺴﺘﺮﺩ ﮐﺮ ﺩﯾﺎ
ﮐﮧ ﺟﺐ ﮨﻢ ﺳﺎﺭﺍ ﻗﺒﻀﮧ ﮨﯽ ﻏﯿﺮ ﻗﺎﻧﻮﻧﯽ ﻣﺎﻧﺘﮯ ﮨﯿﮟ ﺗﻮ
ﺑﯿﺖ ﺍﻟﻤﻘﺪﺱ ﮐﯽ ﺣﯿﺜﯿﺖ ﮐﺎ ﺳﻮﺍﻝ ﮐﮩﺎﮞ ﺳﮯ ﺍٓ ﮔﯿﺎ۔
ﻣﮕﺮ ﻓﻠﺴﻄﯿﻨﯽ ﻗﯿﺎﺩﺕ ﯾﮧ ﺳﻤﺠﮭﻨﮯ ﺳﮯ ﻗﺎﺻﺮ ﺭﮨﯽ ﮐﮧ
ﺑﯿﻦ ﺍﻻﻗﻮﺍﻣﯽ ﺳﺎﻣﺮﺍﺟﯽ ﮨﻮﺍ ﺍﻥ ﮐﮯ ﺧﻼﻑ ﭼﻞ ﺭﮨﯽ ﮨﮯ
ﻟﮩﺬﺍ ﺟﻮ ﺑﭽﺎ ﻟﻮ ﻭﮨﯽ ﻏﻨﯿﻤﺖ ﮨﮯ۔
ﻣﻨﻈﻢ ﯾﮩﻮﺩﯾﻮﮞ ﻧﮯ ﭘﺎﻧﭻ ﻋﺮﺏ ﻣﻤﺎﻟﮏ ﮐﯽ ﮐﺎﻏﺬﯼ ﻓﻮﺝ
ﮐﻮ ﺍٓﺳﺎﻧﯽ ﺳﮯ ﺷﮑﺴﺖ ﺩﮮ ﺩﯼ ﺍﻭﺭ ﺑﯿﺖ ﺍﻟﻤﻘﺪﺱ ﮐﺎ
ﻣﻐﺮﺑﯽ ﺣﺼﮧ ﺑﮭﯽ ﺍﻥ ﮐﮯ ﻗﺒﻀﮯ ﻣﯿﮟ ﺍٓﮔﯿﺎ ﺍﻭﺭ ﺍﻧﮭﻮﮞ
ﻧﮯ ﻓﻮﺭﯼ ﻃﻮﺭ ﭘﺮ ﺍﺳﮯ ﺍﺳﺮﺍﺋﯿﻞ ﻣﯿﮟ ﺿﻢ ﮐﺮ ﮐﮯ ﺍﭘﻨﺎ
ﺩﺍﺭﻟﺤﮑﻮﻣﺖ ﻗﺮﺍﺭ ﺩﮮ ﺩﯾﺎ۔ ﺟﻨﮓ ﺑﻨﺪﯼ ﮨﻮﺋﯽ ﺗﻮ ﻣﻐﺮﺑﯽ
ﮐﻨﺎﺭﮦ ﺍﻭﺭ ﺑﯿﺖ ﺍﻟﻤﻘﺪﺱ ﮐﺎ ﻣﺸﺮﻗﯽ ﺣﺼﮧ ﺍﺭﺩﻥ ﮐﮯ
ﻗﺒﻀﮯ ﻣﯿﮟ ﺗﮭﺎ۔
ﭼﺎﺭ ﻻﮐﮫ ﺍﺳﯽ ﮨﺰﺍﺭ ﻓﻠﺴﻄﯿﻨﯽ ﻋﻮﺭﺗﻮﮞ ﺑﭽﻮﮞ، ﺑﻮﮌﮬﻮﮞ
ﺟﻮﺍﻧﻮﮞ ﮐﻮ ﺑﻨﺪﻭﻕ ﮐﯽ ﻧﻮﮎ ﭘﺮ ﮐﮭﮍﮮ ﮐﮭﮍﮮ ﻧﺴﻞ ﺩﺭ
ﻧﺴﻞ ﮔﮭﺮﻭﮞ ﺳﮯ ﻧﮑﺎﻝ ﮐﮯ ﺍﻧﺪﮬﮯ ﻣﺴﺘﻘﺒﻞ ﮐﯽ ﺟﺎﻧﺐ
ﮨﻨﮑﺎﻝ ﺩﯾﺎ ﮔﯿﺎ۔ ﺍﯾﮏ ﺍﯾﮏ ﮔﺎﻭٔﮞ ﮐﺎ ﻋﺮﺏ ﻧﺎﻡ ﻣﭩﺎ ﮐﺮ
ﻋﺒﺮﺍﻧﯽ ﻧﺎﻡ ﺭﮐﮫ ﺩﯾﺎ ﮔﯿﺎ۔ ﻓﻠﺴﻄﯿﻨﯽ ﺍﺱ ﺍﻟﻤﺌﮯ ﮐﻮ ﻧﻘﺒﮧ
ﮐﮯ ﻧﺎﻡ ﺳﮯ ﯾﺎﺩ ﮐﺮﺗﮯ ﮨﯿﮟ۔ ﻧﻘﺒﮧ ﮐﺎ ﻭﮨﯽ ﻣﻄﻠﺐ ﮨﮯ
ﺟﻮ ﮨﻮﻟﻮﮐﺎﺳﭧ ﮐﺎ ﮨﮯ ‏( ﺍﺏ ﯾﮩﯽ ﺑﮯ ﺧﺎﻧﻤﺎﮞ ﺑﮍﮪ ﮐﮯ
ﭼﺎﻟﯿﺲ ﻻﮐﮫ ﺳﮯ ﺯﺍﺋﺪ ﮨﻮ ﭼﮑﮯ ﮨﯿﮟ ﺍﻭﺭ ﻣﻠﮑﻮﮞ ﻣﻠﮑﻮﮞ
ﺑﮑﮭﺮﮮ ﭘﮍﮮ ﮨﯿﮟ‏)۔
ﮐﮩﺎ ﺟﺎ ﺭﮨﺎ ﮨﮯ ﮐﮧ ﺍﻣﺮﯾﮑﺎ ﭘﮩﻼ ﻣﻠﮏ ﮨﮯ ﺟﻮ ﺑﯿﺖ
ﺍﻟﻤﻘﺪﺱ ﻣﯿﮟ ﺍﭘﻨﺎ ﺳﻔﺎﺭﺗﺨﺎﻧﮧ ﻣﻨﺘﻘﻞ ﮐﺮﮮ ﮔﺎ۔ ﻣﮕﺮ ﯾﮧ
ﺑﺎﺕ ﺩﺭﺳﺖ ﻧﮩﯿﮟ۔ ﺣﺎﻻﻧﮑﮧ ﺑﯿﺖ ﺍﻟﻤﻘﺪﺱ ﮐﮯ ﮐﺴﯽ ﺑﮭﯽ
ﺣﺼﮯ ﮐﻮ ﺍﺳﺮﺍﺋﯿﻞ ﻣﯿﮟ ﯾﮑﻄﺮﻓﮧ ﺿﻢ ﮐﯿﺎ ﺟﺎﻧﺎ ﮨﻤﯿﺸﮧ
ﻏﯿﺮ ﻗﺎﻧﻮﻧﯽ ﺭﮨﺎ ﻣﮕﺮ ﺳﻦ 50 ﺀ ﮐﮯ ﻋﺸﺮﮮ ﻣﯿﮟ ﺳﻮﻟﮧ
ﻣﻤﺎﻟﮏ ﮐﮯ ﺳﻔﺎﺭﺗﺨﺎﻧﮯ ﻣﻐﺮﺑﯽ ﺑﯿﺖ ﺍﻟﻤﻘﺪﺱ ﻣﯿﮟ ﻗﺎﺋﻢ
ﮨﻮ ﭼﮑﮯ ﺗﮭﮯ۔ ﮔﯿﺎﺭﮦ ﻻﻃﯿﻨﯽ ﻣﻤﺎﻟﮏ ‏( ﺑﻮﻟﯿﻮﯾﺎ، ﭼﻠﯽ ،
ﮐﻮﻟﻤﺒﯿﺎ، ﮐﻮﺳﭩﺎﺭﯾﮑﺎ، ﮈﻭﻣﯿﻨﯿﮑﻦ ﺭﯾﭙﺒﻠﮏ، ﺍﯾﮑﻮﯾﮉﻭﺭ،
ﮔﻮﺋﭩﮯ ﻣﺎﻻ، ﭘﺎﻧﺎﻣﺎ، ﯾﻮﺭﻭﮔﻮﺋﮯ، ﻭﯾﻨﺰﻭﯾﻼ، ﮨﯿﭩﯽ‏) ﺗﯿﻦ
ﺍﻓﺮﯾﻘﯽ ﻣﻤﺎﻟﮏ ‏(ﺍٓﺋﯿﻮﺭﯼ ﮐﻮﺳﭧ، ﺯﺍﺋﺮ، ﮐﯿﻨﯿﺎ‏) ﺍﻭﺭ ﺍﯾﮏ
ﯾﻮﺭﭘﯽ ﻣﻠﮏ ﮨﺎﻟﯿﻨﮉ۔ ﺗﻌﺠﺐ ﮨﮯ ﮐﮧ ﺍﺱ ﻭﻗﺖ ﻋﺮﺏ ﺩﻧﯿﺎ
ﻧﮯ ﺍﺱ ﺑﺎﺕ ﮐﺎ ﮐﻮﺋﯽ ﺧﺎﺹ ﻧﻮﭨﺲ ﻧﮩﯿﮟ ﻟﯿﺎ۔
1973 ﺀ ﮐﯽ ﻋﺮﺏ ﺍﺳﺮﺍﺋﯿﻞ ﺟﻨﮓ ﮐﮯ ﺑﻌﺪ ﻏﯿﺮﺟﺎﻧﺒﺪﺍﺭ
ﻣﻤﺎﻟﮏ ﮐﯽ ﺗﻨﻈﯿﻢ ﮐﮯ ﻓﯿﺼﻠﮯ ﮐﮯ ﺗﺤﺖ ﺗﯿﻨﻮﮞ ﺍﻓﺮﯾﻘﯽ
ﻣﻤﺎﻟﮏ ﻧﮯ ﺍﺳﺮﺍﺋﯿﻞ ﺳﮯ ﺳﻔﺎﺭﺗﯽ ﺗﻌﻠﻘﺎﺕ ﺧﺘﻢ ﮐﺮ ﻟﯿﮯ۔
ﺑﺎﻗﯽ ﺗﯿﺮﮦ ﺳﻔﺎﺭﺕ ﺧﺎﻧﮯ ﺑﺪﺳﺘﻮﺭ ﻣﻐﺮﺑﯽ ﺑﯿﺖ ﺍﻟﻤﻘﺪﺱ
ﻣﯿﮟ ﮐﺎﻡ ﮐﺮﺗﮯ ﺭﮨﮯ۔ ﺟﺐ 1980 ﺀ ﻣﯿﮟ ﺍﺳﺮﺍﺋﯿﻠﯽ
ﭘﺎﺭﻟﯿﻤﻨﭧ ﻧﮯ ’’ ﯾﺮﻭﺷﻠﻢ ﮐﺎ ﺑﻨﯿﺎﺩﯼ ﻗﺎﻧﻮﻥ ‘‘ ﻣﻨﻈﻮﺭ ﮐﯿﺎ
ﺟﺲ ﮐﮯ ﺗﺤﺖ ﻣﺘﺤﺪﮦ ﯾﺮﻭﺷﻠﻢ ﮐﻮ ﺍﺳﺮﺍﺋﯿﻞ ﮐﺎ ﻣﺴﺘﻘﻞ
ﺩﺍﺭﻟﺤﮑﻮﻣﺖ ﻗﺮﺍﺭ ﺩﮮ ﺩﯾﺎ ﮔﯿﺎ ﺗﺐ ﺍﻗﻮﺍﻡِ ﻣﺘﺤﺪﮦ ﮐﯽ
ﺳﻼﻣﺘﯽ ﮐﻮﻧﺴﻞ ﻧﮯ ﺍﺱ ﻗﺎﻧﻮﻥ ﮐﻮ ﻏﯿﺮ ﻗﺎﻧﻮﻧﯽ ﻗﺮﺍﺭ
ﺩﯾﺘﮯ ﮨﻮﺋﮯ ﻗﺮﺍﺭﺩﺍﺩ 478 ﻣﻨﻈﻮﺭ ﮐﯽ ﺍﻭﺭ ﺭﮐﻦ ﻣﻤﺎﻟﮏ
ﺳﮯ ﻣﻐﺮﺑﯽ ﺑﯿﺖ ﺍﻟﻤﻘﺪﺱ ﺳﮯ ﺍﭘﻨﮯ ﺳﻔﺎﺭﺕ ﺧﺎﻧﮯ
ﮨﭩﺎﻧﮯ ﮐﺎ ﻣﻄﺎﻟﺒﮧ ﮐﯿﺎ۔ ﺍﺱ ﮐﮯ ﺑﻌﺪ ﺗﻤﺎﻡ ﺳﻔﺎﺭﺗﺨﺎﻧﮯ
ﺗﻞ ﺍﺑﯿﺐ ﻣﻨﺘﻘﻞ ﮨﻮﮔﺌﮯ ‏( ﺍﻗﻮﺍﻡِ ﻣﺘﺤﺪﮦ ﮐﯽ ﺍﺱ ﻗﺮﺍﺭ ﺩﺍﺩ
ﮐﻮ ﺍﻣﺮﯾﮑﺎ ﺳﻤﯿﺖ ﮐﺴﯽ ﻧﮯ ﻭﯾﭩﻮ ﻧﮩﯿﮟ ﮐﯿﺎ‏)۔
ﻣﺸﺮﻗﯽ ﺑﯿﺖ ﺍﻟﻤﻘﺪﺱ ﭘﺮ ﺟﻮﻥ 1967 ﺀ ﻣﯿﮟ ﺍﺳﺮﺍﺋﯿﻞ
ﻧﮯ ﻓﻮﺟﯽ ﻗﺒﻀﮧ ﮐﺮ ﻟﯿﺎ۔ ﺍﻗﻮﺍﻡِ ﻣﺘﺤﺪﮦ ﻧﮯ ﯾﮧ ﻗﺒﻀﮧ
ﻏﯿﺮ ﻗﺎﻧﻮﻧﯽ ﺍﻭﺭ ﻣﺸﺮﻗﯽ ﺑﯿﺖ ﺍﻟﻤﻘﺪﺱ ﮐﻮ ﺍﯾﮏ ﻣﻘﺒﻮﺿﮧ
ﻋﻼﻗﮧ ﻗﺮﺍﺭ ﺩﯾﺎ۔ ﺍﺱ ﮐﺎ ﻣﻄﻠﺐ ﯾﮧ ﺗﮭﺎ ﮐﮧ ﻗﺎﺑﺾ ﻃﺎﻗﺖ
ﺣﺘﻤﯽ ﺗﺼﻔﯿﮧ ﮨﻮﻧﮯ ﺗﮏ ﻣﻘﺒﻮﺿﮧ ﻋﻼﻗﮯ ﮐﯽ ﺟﻐﺮﺍﻓﯿﺎﺋﯽ،
ﺷﻤﺎﺭﯾﺎﺗﯽ، ﺳﻤﺎﺟﯽ ﻭ ﻣﺬﮨﺒﯽ ﺣﯿﺜﯿﺖ ﻣﯿﮟ ﮐﻮﺋﯽ ﻣﻦ
ﻣﺎﻧﯽ ﺗﺒﺪﯾﻠﯽ ﻧﮩﯿﮟ ﮐﺮ ﺳﮑﺘﯽ۔ ﻣﮕﺮ ﭘﭽﮭﻠﮯ ﭘﭽﺎﺱ ﺑﺮﺱ
ﻣﯿﮟ ﻣﺸﺮﻗﯽ ﺑﯿﺖ ﺍﻟﻤﻘﺪﺱ ﮐﮯ ﺍﻧﺪﺭ ﺍﻭﺭ ﺍﺭﺩﮔﺮﺩ ﺩﺭﺟﻦ
ﺑﮭﺮ ﺍﺳﺮﺍﺋﯿﻠﯽ ﺍٓﺑﺎﺩﮐﺎﺭ ﺑﺴﺘﯿﺎﮞ ﻧﻤﻮﺩﺍﺭ ﮨﻮ ﮔﺌﯿﮟ ﺟﮩﺎﮞ ﺩﻭ
ﻻﮐﮫ ﯾﮩﻮﺩﯼ ﺑﺴﺎﺋﮯ ﮔﺌﮯ ﺍﻭﺭ ﺍﻥ ﮐﯽ ﺣﻔﺎﻇﺖ ﮐﺎ ﺫﻣﮯ
ﭘﻮﻟﯿﺲ ﺍﻭﺭ ﻓﻮﺝ ﮐﻮ ﺳﻮﻧﭙﺎ ﮔﯿﺎ۔ ﺟﺐ ﮐﮧ ﺑﯿﺖ ﺍﻟﻤﻘﺪﺱ
ﮐﯽ ﺳﺎﮌﮬﮯ ﭼﺎﺭ ﻻﮐﮫ ﻓﻠﺴﻄﯿﻨﯽ ﺍٓﺑﺎﺩﯼ ﮐﻮ ﺷﮩﺮﯾﺖ
ﺳﮯ ﻣﺤﺮﻭﻡ ﮐﺮ ﮐﮯ ﻏﯿﺮ ﻣﻠﮑﯽ ﺗﺎﺭﮐﯿﻦِ ﻭﻃﻦ ﮐﺎ ﺩﺭﺟﮧ
ﺩﮮ ﺩﯾﺎ ﮔﯿﺎ۔ ﺍﺏ ﺍﻥ ﮐﮯ ﭘﺎﺱ ﺍﺭﺩﻧﯽ ﭘﺎﺳﭙﻮﺭﭦ ﮨﯿﮟ ﺟﻦ
ﭘﺮ ﺷﮩﺮﯾﺖ ﻧﻤﺒﺮ ﺩﺭﺝ ﻧﮩﯿﮟ ﺍﻭﺭ ﺍﺳﺮﺍﺋﯿﻞ ﮐﮯ ﺟﺎﺭﯼ
ﮐﺮﺩﮦ ﺭﮨﺎﺋﺸﯽ ﭘﺮﻣﭧ ﮨﯿﮟ ﺟﻨﮭﯿﮟ ﮐﺴﯽ ﺑﮭﯽ ﻭﻗﺖ
ﻣﻨﺴﻮﺥ ﮐﯿﺎ ﺟﺎ ﺳﮑﺘﺎ ﮨﮯ۔
ﺍﺭﺩﻥ ﻣﯿﮟ ﮐﺎﻡ ﮐﺮﻧﮯ ﮐﮯ ﻟﯿﮯ ﺍﻧﮭﯿﮟ ﺍﺭﺩﻧﯽ ﻭﺭﮎ ﭘﺮﻣﭧ
ﮐﯽ ﺿﺮﻭﺭﺕ ﮨﮯ ﺍﻭﺭ ﺍﺳﺮﺍﺋﯿﻠﯽ ﺭﮨﺎﺋﺸﯽ ﭘﺮﻣﭧ ﺑﺮﻗﺮﺍﺭ
ﺭﮐﮭﻨﮯ ﮐﮯ ﻟﯿﮯ ﺿﺮﻭﺭﯼ ﮨﮯ ﮐﮧ ﻭﮦ ﺍﯾﮏ ﺧﺎﺹ ﻣﺪﺕ
ﺳﮯ ﺯﯾﺎﺩﮦ ﺑﯿﺖ ﺍﻟﻤﻘﺪﺱ ﮐﯽ ﺣﺪﻭﺩ ﺳﮯ ﺑﺎﮨﺮ ﻧﮩﯿﮟ ﺭﮦ
ﺳﮑﺘﮯ۔ ﺑﺼﻮﺭﺕِ ﺩﯾﮕﺮ ﺍﻧﮭﯿﮟ ﺍﭘﻨﯽ ﺍﻣﻼﮐﯽ ﻣﻠﮑﯿﺖ،
ﮐﺮﺍﺋﮯ ﻧﺎﻣﮯ ﯾﺎ ﺗﻨﺨﻮﺍﮦ ﮐﯽ ﺳﻠﭗ ﮐﮯ ﺫﺭﯾﻌﮯ ﺛﺎﺑﺖ
ﮐﺮﻧﺎ ﭘﮍﺗﺎ ﮨﮯ ﮐﮧ ﻭﮦ ﻭﺍﻗﻌﯽ ﺑﯿﺖ ﺍﻟﻤﻘﺪﺱ ﮐﮯ ﺣﻘﯿﻘﯽ
ﺭﮨﺎﺋﺸﯽ ﮨﯿﮟ ﻟﮩﺬﺍ ﺍﻥ ﮐﺎ ﭘﺮﻣﭧ ﺑﺤﺎﻝ ﮐﯿﺎ ﺟﺎﺋﮯ۔ ﺍﺱ
ﮐﮯ ﺑﺎﻭﺟﻮﺩ ﮔﺰﺷﺘﮧ ﭘﭽﺎﺱ ﺑﺮﺱ ﻣﯿﮟ ﺗﻘﺮﯾﺒﺎً ﭼﻮﺩﮦ ﮨﺰﺍﺭ
ﻓﻠﺴﻄﯿﻨﯽ ﺍﯾﺴﮯ ﮨﯿﮟ ﺟﻦ ﮐﺎ ﺭﮨﺎﺋﺸﯽ ﭘﺮﻣﭧ ﻣﺴﺘﻘﻞ
ﻣﻨﺴﻮﺥ ﮐﯿﺎ ﺟﺎ ﭼﮑﺎ ﮨﮯ۔ ﺍﺏ ﻭﮦ ﻧﮧ ﺍﺭﺩﻥ ﮐﮯ ﺷﮩﺮﯼ
ﮨﯿﮟ ﻧﮧ ﺑﯿﺖ ﺍﻟﻤﻘﺪﺱ ﮐﮯ ﺭﮨﺎﺋﺸﯽ۔ ﻋﻤﻼً ﻭﮦ ﻣﻐﺮﺑﯽ
ﮐﻨﺎﺭﮮ ﮐﯽ ﻓﻠﺴﻄﯿﻨﯽ ﺍﺗﮭﺎﺭﭨﯽ ﮐﯽ ﺣﮑﻮﻣﺖ ﻣﯿﮟ ﺑﮭﯽ
ﭘﻨﺎﮦ ﮔﺰﯾﻦ ﮨﯿﮟ۔
ﺍﺏ ﺟﮩﺎﮞ ﺑﮯ ﭼﺎﺭﮔﯽ ﮐﺎ ﯾﮧ ﻋﺎﻟﻢ ﮨﻮ ﻭﮨﺎﮞ ﯾﮧ ﺗﻮﻗﻊ ﮐﺮﻧﺎ
ﮐﮧ ﻋﺎﻟﻢِ ﺍﺳﻼﻡ ﺍﻥ ﮐﮯ ﺣﻖ ﮐﮯ ﻟﯿﮯ ﮨﺮ ﻣﻤﮑﻦ ﺍﻗﺪﺍﻡ
ﺳﮯ ﮔﺮﯾﺰ ﻧﮩﯿﮟ ﮐﺮﮮ ﮔﺎ ﺍﯾﮏ ﻣﻀﺤﮑﮧ ﺧﯿﺰ ﺗﻮﻗﻊ ﮨﮯ۔
ﻇﺎﮨﺮ ﮨﮯ ﻋﺮﺏ ﻟﯿﮓ ﮐﻮ ﭨﺮﻣﭗ ﮐﮯ ﺍﻗﺪﺍﻡ ﮐﯽ ﻣﺬﻣﺖ
ﮐﺮﻧﯽ ﺗﮭﯽ ﺳﻮ ﺍﺱ ﻧﮯ ﺍﭘﻨﺎ ﻓﺮﺽ ﭘﻮﺭﺍ ﮐﺮ ﺩﯾﺎ۔ ﻇﺎﮨﺮ
ﮨﮯ ﺍﺳﻼﻣﯽ ﮐﺎﻧﻔﺮﻧﺲ ﮐﯽ ﺗﻨﻈﯿﻢ ﮐﻮ ﯾﮧ ﻣﻄﺎﻟﺒﮧ ﮐﺮﻧﺎ
ﺗﮭﺎ ﮐﮧ ﺑﯿﺖ ﺍﻟﻤﻘﺪﺱ ﻣﯿﮟ ﺟﻮ ﺑﮭﯽ ﻣﻠﮏ ﺍﭘﻨﺎ ﺳﻔﺎﺭﺕ
ﺧﺎﻧﮧ ﻣﻨﺘﻘﻞ ﮐﺮﮮ ﺍﺱ ﺳﮯ ﺗﻨﻈﯿﻢ ﮐﮯ ﺳﺘﺎﻭﻥ ﻣﻤﺎﻟﮏ
ﺳﻔﺎﺭﺗﯽ ﺗﻌﻠﻘﺎﺕ ﺧﺘﻢ ﮐﺮ ﻟﯿﮟ ﺳﻮ ﺍﺱ ﻧﮯ ﺍﭘﻨﯽ
ﻣﺮﺩﺍﻧﮕﯽ ﮐﮯ ﺛﺒﻮﺕ ﮐﮯ ﻃﻮﺭ ﭘﺮ ﻣﻄﺎﻟﺒﮧ ﮐﺮ ﺩﯾﺎ۔
ﻇﺎﮨﺮ ﮨﮯ ﮐﮧ ﺗﻤﺎﻡ ﻋﺮﺏ ﺍﻭﺭ ﺩﯾﮕﺮ ﻣﺴﻠﻤﺎﻥ ﻣﻤﺎﻟﮏ ﮐﻮ
ﺍﯾﮏ ﻣﺬﻣﺘﯽ ﺑﯿﺎﻥ ﺍﻭﺭ ’’ﯾﮩﺎﮞ ﺳﮯ ﻭﮨﺎﮞ ﺗﮏ ﺍٓﮒ ﻟﮓ ﺟﺎﺋﮯ
ﮔﯽ ‘‘ ﻭﻏﯿﺮﮦ ﻭﻏﯿﺮﮦ ﮐﮩﻨﺎ ﺗﮭﺎ ﺳﻮ ﮐﮩﮧ ﺩﯾﺎ۔ ﺩﻭ ﯾﺎ ﺗﯿﻦ
ﺟﻤﻌﮯ ﺗﮏ ﻣﺬﮨﺒﯽ ﺳﯿﺎﺳﯽ ﺟﻤﺎﻋﺘﯿﮟ ﮐﺮﺍﭼﯽ، ﻻﮨﻮﺭ ﺍﻭﺭ
ﭘﺸﺎﻭﺭ ﻭﻏﯿﺮﮦ ﻣﯿﮟ ﺍﺣﺘﺠﺎﺟﯽ ﺟﻠﻮﺱ ﻧﮑﺎﻟﯿﮟ ﮔﯽ۔ ﮨﻮ
ﺳﮑﺘﺎ ﮨﮯ ﮐﭽﮫ ﻣﻨﭽﻠﮯ ﺍﭘﻨﯽ ﮨﯽ ﺍﻣﻼﮎ ﮐﻮ ﻧﻘﺼﺎﻥ ﺑﮭﯽ
ﭘﮩﻨﭽﺎ ﺩﯾﮟ۔ ﻣﮕﺮ ﻓﻠﺴﻄﯿﻨﯿﻮﮞ ﻧﮯ ﺍﮔﺮ ﺗﯿﺴﺮﺍ ﺍﻧﺘﻔﺎﺿﮧ
ﺷﺮﻭﻉ ﮐﺮ ﺩﯾﺎ ﺗﻮ ﭨﺎﻧﮕﯿﮟ ﺻﺮﻑ ﻓﻠﺴﻄﯿﻨﻮﮞ ﮐﯽ ﮨﯽ
ﭨﻮﭨﯿﮟ ﮔﯽ۔ ﮨﻢ ﺑﺲ ﺍﯾﮏ ﮐﻮﺭﺱ ﮐﯽ ﺷﮑﻞ ﻣﯿﮟ ﮨﺎﺋﮯ
ﻭﺍﺋﮯ ﮐﺮﺗﮯ ﺭﮨﯿﮟ ﮔﮯ۔
‏( ﺟﺐ ﺍﮔﺴﺖ 1969 ﻣﯿﮟ ﺍٓﺳﭩﺮﯾﻠﻮﯼ ﯾﮩﻮﺩﯼ ﻣﺎﺋﯿﮑﻞ
ﺭﻭﺣﺎﻥ ﻧﮯ ﻣﺴﺠﺪ ﺍﻗﺼﯽ ﮐﮯ ﻣﻨﺒﺮ ﮐﻮ ﺍٓﮒ ﻟﮕﺎﺋﯽ ﺗﻮ
ﺑﮩﺎﻭﻝ ﭘﻮﺭ ﮐﮯ ﺍﯾﮏ ﻣﻘﺎﻣﯽ ﺍﺧﺒﺎﺭ ﻣﯿﮟ ﺳﺮﺧﯽ ﻟﮕﯽ
’’ﺳﻤﮧ ﺳﭩﮧ ﮐﮯ ﻋﻮﺍﻡ ﺍﺳﺮﺍﺋﯿﻞ ﮐﻮ ﻧﯿﺴﺖ ﻭ ﻧﺎﺑﻮﺩ ﮐﺮ
ﮐﮯ ﺩﻡ ﻟﯿﮟ ﮔﮯ۔ﻣﻘﺎﻣﯽ ﻋﻠﻤﺎ ﮐﺎ ﻋﺰﻡ‘‘ ۔‏)
ﺍٓﺝ ﺍﺻﻞ ﻣﺴﺌﻠﮧ ﻓﻠﺴﻄﯿﻦ ﭘﺮ ﺍﺳﺮﺍﺋﯿﻠﯽ ﻗﺒﻀﮧ ﻧﮩﯿﮟ ﺍﺻﻞ
ﻣﺴﺌﻠﮧ ﺍﺳﺮﺍﺋﯿﻞ ﺳﻤﯿﺖ ﭘﻮﺭﮮ ﻣﺸﺮﻕِ ﻭﺳﻄﯽ ﮐﯽ
’’ ﺍﻋﺘﺪﺍﻝ ﭘﺴﻨﺪ ﺣﮑﻮﻣﺘﻮﮞ ‘‘ ﮐﻮ ’’ﺍﻧﺘﮩﺎ ﭘﺴﻨﺪ ﺍﯾﺮﺍﻥ ‘‘ ﮐﯽ
ﺷﮑﻞ ﻣﯿﮟ ﺩﺭﭘﯿﺶ ﮨﮯ۔ﯾﮧ ﺧﻄﺮﮦ ﺍﺗﻨﺎ ﺑﮍﺍ ﮨﮯ ﮐﮧ ﺍﺱ ﭘﺮ
ﺳﻮ ﻓﻠﺴﻄﯿﻦ ﺍﻭﺭ ﮨﺰﺍﺭ ﺑﯿﺖ ﺍﻟﻤﻘﺪﺱ ﻗﺮﺑﺎﻥ۔۔
ﺑﺸﮑﺮﯾﮧ ﺍﯾﮑﺴﭙﺮﯾﺲ

📅 December 12, 2017
پورا پڑھیں

Warfare by Islamic forces before 1918


Crusades

The European crusaders re-conquered much of the territory seized by the Islamic state, dividing it into four kingdoms, the most important being the state of Jerusalem. The Crusades originally had the goal of recapturing Jerusalem and the Holy Land (former Christian territory) from Muslim rule and were originally launched in response to a call from the Eastern Orthodox Byzantine Empire for help against the expansion of the Muslim Seljuk Turks into Anatolia. There was little drive to retake the lands from the crusaders, save the few attacks made by the Egyptian Fatimids. This changed, however, with the coming of Zangi, ruler of what is today northern Iraq. He took Edessa, which triggered the Second Crusade, which was little more than a 47-year stalemate. The stalemate was ended with the victory of Salah al-Din al-Ayyubi (known in the west as Saladin) over the forces of Jerusalem at the Horns of Hattin in 1187. It was during the course of the stalemate that a great deal of literature regarding Jihad was written. While amassing his armies in Syria, Saladin had to create a doctrine which would unite his forces and make them fight until the bitter end, which would be the only way they could re-conquer the lands taken in the First Crusade. It stated that any one who would abandon the Jihad would be committing a sin that could not be washed away by any means. It also put his amirs at the center of power, just under his rule. While this propaganda was successful in uniting his forces for a time, the fervor burned out quickly. Much of Saladin's teachings were rejected after his death.
South Asia

Sir Jadunath Sarkar contends that several Muslim invaders were waging a systematic Jihad against Hindus in India to the effect that "Every device short of massacre in cold blood was resorted to in order to convert heathen subjects."In particular the records kept by al-Utbi, Mahmud al-Ghazni's secretary, in the Tarikh-i-Yamini document several episodes of bloody military campaigns. In the late tenth century, a story spread that before Muhammad destroyed the idols at the Kaaba, that of Manāt was secretly sent to a Hindu temple in India; and the place was renamed as So-Manāt or Somnath. Acting on this, the Shiva idol at the Somnath temple was destroyed in a raid by Mahmud Ghazni in CE 1024; which is considered the first act of Jihad in India. In 1527, Babur ordered a Jihad against Rajputs at the battle of Khanwa. Publicly addressing his men, he declared the forthcoming battle a Jihad. His soldiers were facing a non-Muslim army for the first time ever. This, he said, was their chance to become either a Ghazi (soldier of Islam) or a Shaheed (Martyr of Islam). The Mughal emperor Aurangzeb waged a Jihad against those identified as heterodox within India's Islamic community, such as Shi'a Muslims.
Barbary Pirates

After the Spanish reconquered Granada from the Moors in 1492, many Moors exiled from the Spanish Inquisition fled to North Africa. After attacks against Spanish shipping took place from North Africa, the Spanish retaliated by seizing Oran, Algiers, and Tunis. By 1518, the pirates were serving in the navies of North African Sultans, conducting activities that included attacks on enemy (especially Christian) trade and raiding European coastlines for potential slaves. However, by 1587, their activity became much more decentralized, and more like traditional piracy.

Much of the Barbary activity was funded through the enslavement of European Christians. In the beginning of the 17th Century, there were more than 20,000 captives to be sold into slavery in Algiers alone. Although people from all over Christendom suffered Barbary attacks, the people who were the most likely victims were from Sicily. However, any Christian nation that refused to pay tribute to Islam and either the Sultanate of Morocco, Eyalet of Tripolitania, or the Regency of Algiers could have been subject to attack.

In 1800, the Eyalet of Tripolitania demanded an increase of tribute in order to "prevent" future attacks against the fledgling United States. However, the U.S. refused to pay the tribute, and this led to the First Barbary War. When the U.S. defeated the Tripolitanians in the Battle of Derne in 1805, the two nations signed a treaty that had favorable terms for the United States. However, a resurgence in Barbary attacks in 1815 led to the U.S. Navy being used again in the Second Barbary War, which also resulted in a US victory and the ceasing of all Barbary attacks on American shipping without tribute.
Ottoman Empire

Upon succeeding his father, Suleiman the Magnificent began a series of military conquests in Europe. On August 29, 1526, he defeated Louis II of Hungary (1516–26) at the battle of Mohács. In its wake, Hungarian resistance collapsed and the Ottoman Empire became the preeminent power in South-Eastern Europe. In July 1683 Sultan Mehmet IVproclaimed a Jihad and the Turkish grand vizier, Kara Mustafa Pasha, laid siege to Vienna with an army of 138,000 men.

On November 14, 1914, in Constantinople, capital of the Ottoman Empire, the religious leader Sheikh-ul-Islam declares Jihad on behalf of the Ottoman government, urging Muslims all over the world—including in the Allied countries—to take up arms against Britain, Russia, France, Serbia and Montenegro in World War I. On the other hand, Sheikh Hussein bin Ali, Sharif of Mecca, refused to accommodate Ottoman requests that he endorse this jihad, a requirement that was necessary were a jihad to become popular, due to British pressure and on the grounds that:


'the Holy War was doctrinally incompatible with an aggressive war, and absurd with a Christian ally: Germany'
Central Asia and Afghanistan

Ahmad Shah, founder of the Durrani Empire, declared a jihad against the Marathas, and warriors from various Pashtun tribes, as well as other tribes answered his call. The Third battle of Panipat (January 1761), fought between largely Muslim and largely Hindu armies who numbered as many as 100,000 troops each, was waged along a twelve-kilometre front, and resulted in a victory for Ahmad Shah.

In response to the Hazara uprising of 1892, the Afghan Emir Abdur Rahman Khan declared a "Jihad" against the Shiites. The large army defeated the rebellion at its center, in Oruzgan, by 1892 and the local population was severely massacred. According to S. A. Mousavi, "thousands of Hazara men, women, and children were sold as slaves in the markets of Kabul and Qandahar, while numerous towers of human heads were made from the defeated rebels as a warning to others who might challenge the rule of the Amir". Until the 20th century, some Hazaras were still kept as slaves by the Pashtuns; although Amanullah Khan banned slavery in Afghanistan during his reign, the tradition carried on unofficially for many more years.
Wahabbists

The Saudi Salafi sheiks were convinced that it was their religious mission to wage Jihad against all other forms of Islam. In 1801 or 1802, the Saudi Wahhabists under Abdul Aziz ibn Muhammad ibn Saud attacked and captured the holy Shia cities of Karbala and Najaf in Iraq, massacred the Shiites and destroyed the tombs of the Shiite Imam Husayn and Ali bin Abu Talib. In 1802 they overtook Taif. In 1803 and 1804 the Wahhabis overtook Mecca and Medina
📅 December 12, 2017
پورا پڑھیں

ہمارا کردار لطائف کے آئینے میں

ہمارا کردار لطائف کے آئینے میں

کہتے ہیں مسیحیوں کے زوال کے زمانے میں دو پادری اس بات پر بحث کر رہے تھے کہ بائبل کی روشنی میں گھوڑے کے منہ میں کتنے دانت ہوتے ہیں۔ ایک گنتی کچھ بتا رہا تھا اور دوسرا گنتی کچھ اور۔ قریب سے گزرنے والے ایک شخص نے ان سے کہا اس معاملے میں بائبل کو درمیان میں لانے کی کیا ضرورت؟ گھوڑے کا منہ کھول کر اس کے دانت کیوں نہیں گنتی کرلیتے۔

(یہ لطیفہ ان دانشورں کے نام ہے جو اس بات پر بحث کرتے نظر آتے ہیں کہ قائداعظم کیسا پاکستان چاہتے تھے سیکولر یا اسلامی؟ حالانکہ یہ سوال انھیں پاکستان میں بسنے والے جیتے جاگتے 21 کروڑ عوام سے کرنا چاہیے کہ وہ کیسا پاکستان چاہتے ہیں)۔

ایک خرکار گدھوں پر بوجھ لاد کر کہیں جارہا تھا، اسے دور سے ڈاکو آتے دکھائی دیے۔ وہ پکارا بھاگو۔۔۔ بھاگو۔۔۔ ڈاکو آرہے ہیں۔ گدھوں نے کہا کہ ہم کیوں بھاگیں؟ تو بھاگ۔۔۔! ہمیں تو بوجھ اٹھانا ہے وہ تیرا ہو یا کسی اور کا۔ (ابن انشا کی تحریر سے ماخوذ یہ پیراگراف میرے نزدیک ان سیاست دانوں کے لیے ہے جو اپنے مفادات کے لیے عوام کو سڑکوں پر آنے کی دعوت دیتے ہیں جب کہ عوام ہیں کہ ان کی اپیل پر اپنے کان دھرتے ہی نہیں ہیں)۔

ایک گاؤں میں سیلاب آگیا، ایک حکومتی افسر گاؤں پہنچا اور لوگوں سے مخاطب ہوتے ہوئے کہا کہ پانی کا بہاؤ بہت بڑھ گیا ہے، پانی خطرے کے نشان سے 2 فٹ اونچا ہوگیا ہے۔ لوگوں نے خوفزدہ ہوکر کہا کہ اب کیا ہوگا؟ افسر نے کہا گھبرانے کی ضرورت نہیں۔ ہم نے انتظام کرلیا ہے۔ خطرے کے نشان کو دو فٹ سے بڑھا کر چار فٹ کردیا ہے۔ (یہ لطیفہ ان معاشی پالیسیاں بنانے والے ماہرین کے نام ہے جو مہنگائی کے اسباب ختم کرنے کے بجائے تنخواہ میں اضافے کی بات کرتے ہیں جب کہ دنیا کے معاشی ماہرین کے مطابق تنخواہ میں اضافہ مہنگائی میں اضافے کا سبب بنتا ہے۔)

پولینڈ میں ایک بچے نے اپنی کلاس ٹیچر کو بتایا کہ ہماری بلی نے چار بچے دیے ہیں، وہ سب کے سب کمیونسٹ ہیں۔ ٹیچر نے خوب شاباش دی۔ ہفتہ بھر بعد جب اسکول انسپکٹر معائنے کے لیے آئے تو ٹیچر نے بچے سے کہا کہ بلی والی بات پھر سے کہیے، بچے نے کہا ہماری بلی نے چار بچے دیے ہیں وہ سب کے سب جمہوریت پسند ہیں۔ ٹیچر نے بوکھلا کر کہا ہفتہ بھر پہلے تو تم نے اس طرح بات نہیں کی تھی، بچہ بولا جی ہاں مگر اب بلی کے بچوں کی آنکھیں کھل گئی ہیں۔ (سیاسی جماعتوں کے ان عہدیداروں کے نام جو پارٹی بدل کر دوسری پارٹی میں چلے جاتے ہیں سابقہ پارٹی میں اس طرح کیڑے نکالتے ہیں جیسے پارٹی بدلتے ہی ان کی آنکھیں کھلی ہیں۔)

لندن کی ایک بیکری کے کباب عموماً ملکہ کے لیے قصر بکنگھم میں جاتے تھے۔ دوستوں کے مشورے پر بیکری والے نے دکان پر ایک بڑے سائز کا بورڈ نصب کرایا جس پر تحریر تھا کہ ہمارے یہاں کے کباب ملکہ معظمہ بڑے شوق سے تناول فرماتی ہیں۔ قریب کے دوسرے بیکری والے کو اس کی یہ بات زیادہ پسند نہیں آئی۔ اس نے فوراً دکان پر ایک بورڈ لگوایا جس پر تحریر تھا اے اللہ! ہماری ملکہ کی صحت کی حفاظت فرما۔ (اپوزیشن کی سیاست کا کردار ادا کرنے والے سیاستدانوں کے نام۔)

کہتے ہیں کہ ہندوستان میں کرنسی نوٹ جب پہلی بار تصویر کے ساتھ جاری کیے گئے تو اس وقت کے مذہبی حلقوں میں بے چینی پیدا ہوئی، اس ضمن میں ایک وفد اس دور کے ایک بڑے عالم کی خدمت میں حاضر ہوا اور ان سے پوچھا کہ کرنسی نوٹ پر تصویر کا ہونا صحیح ہے یا غلط؟ محترم عالم دین نے بڑے اطمینان سے جواب دیا۔ میرے بھائیو! میرے فتویٰ دینے کا کوئی فائدہ نہیں ہے کیونکہ مجھے یقین ہے کہ میرا فتویٰ نہیں چلے گا کرنسی نوٹ چل جائے گا۔ (دور حاضر کے تقاضوں سے لاعلم اور بے خبر علما کرام کے نام۔)

ایک شہری خاتون گاؤں میں عورتوں کو حساب سکھا رہی تھیں۔ اس نے ایک عورت سے پوچھا کہ اگر تمہارے پاس پچاس روپے ہوں اس میں سے تم بیس روپے اپنے شوہر کو دے دو تو بتاؤ تمہارے پاس کتنے روپے بچیں گے؟ عورت نے جواب دیا کچھ بھی نہیں۔ خاتون نے دیہاتی عورت کو ڈانٹتے ہوئے کہا۔ احمق عورت! تم حساب بالکل نہیں جانتی ہو۔ دیہاتی عورت نے جواب دیا۔ آپ بھی میرے شوہر ’’شیرو‘‘ کو نہیں جانتی ہو۔ وہ سارے روپے مجھ سے چھین لے گا۔

(یہ لطیفہ ان ماہرین کے نام جو پالیسیاں بناتے وقت زمینی حقائق سے لاعلم ہوتے ہیں۔)

ایک مولوی صاحب کسی گاؤں پہنچے۔ انھیں تبلیغ کا شوق تھا۔ جمعہ کا خطبہ پورے ایک ہفتے میں تیار کیا لیکن قدرت کا کرنا ایسا ہوا کہ جمعہ کے دن صرف ایک نمازی مسجد میں آیا۔ مولوی صاحب کی سمجھ میں نہیں آرہا تھا کہ کیا کریں۔ انھوں نے اس شخص سے کہا کہ تم واحد آدمی ہو جو مسجد آئے ہو۔ بتاؤ مجھے کیا کرنا چاہیے؟ وہ شخص بولا۔ مولوی صاحب! میں ایک دیہاتی آدمی ہوں۔ مجھے اتنا پتا ہے کہ میں اگر بھینسوں کے لیے چارہ لے کر پہنچوں گا اور وہاں صرف ایک بھینس ہو تو میں اسے چارہ ضرور دوں گا۔ مولوی صاحب بہت خوش ہوئے۔ انھوں نے بھی چوڑی تقریر کر ڈالی۔ اس کے بعد انھوں نے دیہاتی سے پوچھا کہ بتاؤ خطبہ کیسا تھا؟ دیہاتی نے لمبی جمائی لی اور کہا۔ مولوی صاحب! میں ایک دیہاتی آدمی ہوں صرف اتنا جانتا ہوں کہ اگر میرے سامنے ایک بھینس ہوگی تو میں ساری بھینسوں کا چارہ اس کے آگے نہیں ڈالوں گا۔

(نصاب تعلیم مرتب کرنے والوں کے نام۔)

قدیم نوادرات جمع کرنے کی شوقین ایک خاتون نے دیکھا کہ ایک شخص اپنی دکان کے کاؤنٹر پر بلی کو جس پیالے میں دودھ پلا رہا ہے اس چینی کے قدیم پیالے کی قیمت تیس ہزار ڈالر سے کم نہیں۔ خاتون نے سوچا کہ شاید یہ شخص اس پیالے کی قیمت سے ناواقف ہے۔ اس خاتون نے اپنے طور پر بے حد چالاکی سے کام لیتے ہوئے کہا۔ جناب! کیا آپ یہ بلی فروخت کرنا پسند کریں گے؟ تو اس شخص نے کہا۔ یہ میری پالتو بلی ہے، پھر بھی آپ کو یہ اتنی ہی پسند ہے تو پچاس ڈالر میں خرید لیجیے۔

خاتون نے فوراً پچاس ڈالر نکال کر اس شخص کو دیے اور بلی خرید لی، لیکن جاتے جاتے اس دکان دار سے کہا ۔ میرا خیال ہے کہ اب یہ پیالہ آپ کے کسی کام کا نہیں رہا۔ برائے کرم اسے بھی مجھے دے دیجیے۔ میں اس پیالے میں بلی کو دودھ پلایا کروں گی۔ دکان دار نے کہا۔ خاتون! میں آپ کو یہ پیالہ نہیں دے سکتا، کیونکہ اس پیالے کو دکھا کر اب تک 300 بلیاں فروخت کرچکا ہوں۔ (پاکستان میں بسنے والے ان باشعور عوام کے نام جنھیں طرح طرح سے بے وقوف بنایا جاتا ہے۔)

📅 December 12, 2017
پورا پڑھیں