15 Ramadan, Birthday of Imam Hassan al-Mujtaba (A.S.W)
15 Ramadan, Birthday of Imam Hassan al-Mujtaba (PBUH)
Title : al-Mujtaba
Agnomen : Abul-Mohammad
Father : Imam Ali(a.s.) - the 1st Holy Imam
Mother : Mistress of the women of the world, Lady Fatima Az-Zahra(s.a.) bint-e-Mohammad Rasool-Allah(pbuh&hf)
Birth :
At Madina on 15th of Ramzan 3 AH (624 AD) First Important Joyous occassion in the household of the Prophet !
His Birth and blessings
The 2nd Imam after Imam Ali(a.s.) was his son Imam Hassan(a.s.), the son of the leader of the women of the worlds, Bibi Fatima(s.a.), daughter of Prophet Muhammad(pbuh&hf). Imam Hassan(a.s.)'s kunya was Abu Muhammad. He was born in Medina, on the night of the 15th day of Ramadan, three years after the hijra (624 AD).
When Imam Hassan(a.s.) was born, the Prophet(pbuh&hf) took him and said the adhan (call to prayer) in his right ear, and said the iqama (words similar to the adhan) in his left ear. Then he sacrificed a ram for him (in the ceremony of aqiqa). Then he shaved his hair. He (i.e., the Prophet (pbuh&hf)) gave silver equal to his hair. So the weight of Imam Hassan(a.s.)'s hair was a dirham and some of silver. Then he ordered his hair to perfumed. So the aqiqa and giving alms as equal as the weight of hair have become Sunna (an act of the Prophet(pbuh&hf)).
Bibi Fatima(s.a.) brought her two sons, Imam Hassan(a.s.) and Imam Hussain(a.s.) to the Apostle of God(pbuh&hf) at the time when he was suffering from the sickness from which he died. "Apostle of God," she said, "these are your two (grand) sons. Give them something as an inheritance". "As for Hassan," he replied, "he has my form and my nobility. As for Hussain, he has my generosity and my bravery."
یروشلم: تاریخی پس منظر
اس کے بعد اگلے دو عشروں تک یروشلم کا مشرقی حصہ اردن کے اقتدار میں رہا لیکن 1967 کی جنگ میں اسرائیل نے اس پر بھی قبضہ کر لیا۔ بین الاقوامی برادری آج تک اس قبضے کو غیرقانونی سمجھتی ہے۔
اسرائیلی شاعر یہودا عمیحائی نے لکھا تھا کہ ’یروشلم ابدیت کے ساحل پر واقع ساحلی شہر ہے۔‘ یہ الگ بات ہے کہ یہ سمندر اکثر و بیشتر متلاطم ہی رہا ہے۔ اس کا اندازہ یروشلم کی اس مختصر ٹائم لائن سے لگایا جا سکتا ہے:
تمام دوست متوجہ رہیں اور دوسروں کو بھی اس خطرے سے اگاہ کریں "نہج البلاغہ" اور "نہج الاسرار":
"نہج البلاغہ" کے اردو میں شیعہ و سُنی علماء کے تراجم موجود ہیں، شیعہ علماء میں مفتی جعفر حسینؒ اور علامہ سید ذیشان جوادیؒ جبکہ اہلِ سنت میں رئیس احمد جعفریؒ کا ترجمہ معروف و مطبوع ہے۔
غالیوں اور ناصبیوں نے امت کو بہت نقصان دیا ہے، سچ فرمایا حضرت علی علیہ السلام نے کہ اُن کے متعلق دو قسم کے لوگ ہلاک ہوں گے ایک غالی محب دوسرے دشمن ناصبی۔ابو محمد علی جواد
سید حسن نصراللہ کا فلسطین کے مسئلہ اور امریکہ کی نئی شرارت پر تازہ خطاب کا ترجمہ
سید حسن نصراللہ کا فلسطین کے مسئلہ اور امریکہ کی نئی شرارت پر تازہ خطاب کا ترجمہ
ہمیں یوں لگ رہا ہے کہ ہم ایک نئے وعد بالفور کا سامنا کررہے ہیں ،اسرائیل اور اس کے اتحادی کسی بھی عالمی قوانین اور بین الاقوامی کیمونیٹی جیسے چیزوں کو نہیں مانتے اسرائیل مرحلہ اورانداز سے قدس bکی آبادی کو مہاجر بننے پر مجبور کرتا رہا ہے، اسی طرح مسجد اقصی میں اپنے قبضے کو بڑھانے کی ان کی کوششیں واضح تھیں وہ مسجد اقصی کے نیچے خندق کھودتے رہے ہیں۔
اس مسئلے کے بارے میںبہت جلد آپ ایسی عربی آوازوں کو سنے گے جو ٹرمپ کے اس اعلان کے خطرات کو کم رنگ کرنے اور بھلوانے کی کوشش کرینگی ۔
ٹرمپ کے اعلان نے اسرائیلوں کو یہ موقع فراہم کردیا ہے کہ وہ قدس پر ایک کھلی جارحیت کریں اور یہی وہ خطرناک پہلو ہے جس کی جانب توجہ ضروری ہے
قدس میں رہنے والی آبادی اور ان کی ملکیت کا کیا ہوگا یہ کوئی ٹرمپ سے پوچھے گا ؟آپ دیکھ لے گے کہ اس اعلان کے بعدبغیر کسی قید و شرط اور روکاوٹوں کے قدس میں یہودی غاصبانہ آباد کاری کا تیز رفتار عمل شروع ہوگا امریکی اس اعلان کے بعد بیت المقدس میں موجود اسلامی اور عیسائی مقدسات کا مالک اسرائیل بنے گا، اسلامی اور عیسائی مقدسات خاص کر قبلہ اول کو اس اعلان کے بعد شدید خطرہ ہے قبلہ اول فلسطینی مسئلے کا قلب اور مرکز ہے
ٹرمپ کے اعلان کا مطلب یہ ہے کہ فلسطین کا مسئلہ امریکیوں کے لئے حل ہوچکا ہے اور اب قدس کے بارے میں کسی بھی قسم کی بات چیت اور گفتگو کی ضرورت نہیں ہے یعنی اس مسئلے کا بعنوان ایک متنازعہ مسئلہ کی حثیت ان کے لئے ختم ہوگئی ہے ۔
اس اعلان کے بعد فلسطین سے جڑے تمام مسائل خطرے میں پڑ گئے ہیں خاص کر کہ اس اعلان پر عمل درآمد ہو جائے تو اس کا مطلب یہ ہوگا کہ فلسطین سے جڑے تمام مسائل بے اہمیت ہو گئے ہیں۔
ظاہری طور پر یوں لگتا ہے کہ پوری دنیا اس اعلان کی مخالف ہے اور مذمت کررہی ہے اسی طرح یوں لگتا ہے کہ پوری عرب دنیا بھی مخالف ہے اور اس کی مذمت کرتی ہے لیکن امریکہ نہ تو بین الاقوامی کیمونٹی کو دیکھتا ہے اور نہ ہی اپنے اتحادیوں کے لئے کسی قسم کےکوئی احترام کا قائل ہے جس کا مشاہد ہ ہم نے دیکھ لیا وہ اسرائیل کی خاطر سب کچھ کرنے کے لئے تیار ہے۔
ٹرامپ کا اعلان ایک ارب سے زائد مسلمانوں اور کروڑوں عیسائیوں کی توہین ہے یہ ان کے مقدسات اور تاریخ اور قدروں کی توہین ہے ہمیں ایک ایسے فرد اور ادارے کا سامنا ہے جو کسی بھی مقدسات کے احترام کا قائل نہیں اور نہ ہی کسی کے احترام کا قائل ہے
ٹرمپ نے جو کچھ کیا ہے جیسا کہ کہا بھی گیا کہ تمام بین الاقوامی قوانین کی خلاف ورزی ہے مطلب ہم ایک ایسے شخص کا سامنا کررہے ہیں جو ہرقسم کے بین الاقوامی قوانین کو پامال کرکے اپنی مرضی کو تھوپنا چاہتا ہے وہ کسی قسم کے معاہدے اور گرانٹیز اور وعدوں کی پاسداری نہیں کرتا اور نہ ہی کسی قسم کی عالمی اصولوں کا قائل ہے
سوال یہ ہے کہ امریکہ کے لئےعالم اسلام اور دنیا عرب میں موجوداپنے اتحادیوں کی کوئی اہمیت نہیں؟ سب نےسناہوگا کہ فلاں بادشاہ فلاں سربراہ مملکت نے ٹرمپ کو اس اعلان سے روکنے کی کوشش کی اور خبردار کیا۔
گذشتہ چند سالوں سے یہ کہا جارہا تھا کہ امریکہ کے نزدیک اسرائیل کی اہمیت کم ہوچکی ہے اب امریکہ صرف ایک زاویہ نظر نہیں رکھتا وہ دوسروں کو بھی اہمیت دیتا ہے وغیرہ لیکن معلوم ہوا کہ امریکہ کے نزدیک اسرائیل کے مقابلے میں باقی سب کی کوئی اہمیت اور قدرومنزلت نہیں ہے
ہم ایک بہت بڑے تاریخی ظلم کا سامنا کررہے ہیں جس کےبارے ہماری ذمہ داریاں ہیں جسے ادا کرنا ہونگی اور اس کی ذمہ داری لینا ہوگی کل ہم نے اسرائیلی تجزیہ کاروں سے سنا کہ جو اسرائیلی حکومت کی قربت بھی رکھتے ہیں ان کا کہنا تھا کہ یہ جو کہا جارہا ہے کہ اگر قدس کو اسرائیل کا دارالحکومت بنایا جائے تو عالم اسلام اور عر ب میں یہ ہوگا وہ ہوگا ایسا ردعمل آئے گا ویسا آئے گا ،یہ سب کچھ بکواس ہے کسی قسم کا کوئی ردعمل نہیں آئے گا یہ انکا تجزیہ تھا ۔
شائد امریکی ادارے کے پاس بھی اسی قسم کی اطلاعات یا تجزیہ ہوگا اس لئے انہوں نے اتنی بڑی جرات کردی وہ کہتے ہیں کچھ نہیں ہوگا اعلان کردو کچھ دن وہ شور مچاینگے پھر سب نارمل ہوگا اس قسم کی سوچ کے سبب امریکیوں نے یہ دیوانہ پن دیکھایا ہے اور اعلان کردیا ہے
یہاں ضروری ہے کہ سب سے پہلے احتجاج کیا جائے احتجاج کی ہرشکل و صورت کو انجام دیا جائے ،ہمیں یہ دیکھانا ہے کہ ہم قدس سے غافل نہیں وہ ہمارے لئے اہمیت رکھتا ہے کسی کو بھی یہ موقف اختیار کرتے ہوئے جھجکنا نہیں چاہیے اس کا برملا اعلان کرنا چاہیے
کم سے کم تمام حریت پسندوں کو کو سوشل میڈیا پر اس مسئلے کے بارے میں کروڑوں کی تعداد میں پوسٹیں اور کمپین چلانا چاہیے
کم سے کم واجب یہ ہے کہ پورا عالم اسلام اور پوری دنیا کے حریت پسند کم ازکم سوشل میڈیا پر اس سلسلے میں اپنا کردار ادا کریں ہر جوان مرد عورت سب کو ان دنوں قدس کے لئے کام کرنا چاہیے
علما ،دانشور یونیورسٹیوں ،سیاسی جماعتوں ،سب کو اس مسئلے پر بولنا چاہیے خاموش رہنا کسی طور جائز نہیں ہے سب کو اس کی مذمت کرنا ہے سب کو اپنا کردار ادا کرنا سب کو چاہیے کہ اس سلسلے میں مظاہرے کریں ،کانفرنسسز کریں اجتماعات کریں ملاقاتیں کریں
جو یہ کہتے ہیں عالم اسلامی میں کسی قسم کا کوئی ردعمل سامنے نہیں آئے گا انہیں اپنے مضبوط پیغام سے سمجھانا ہے کہ ہم قدس کو نہیں بھولے۔
تمام مسلم ممالک کو چاہیے کہ امریکی سفیروں کو بلاکر اپنا احتجاج ریکارڈ کرائیں یہ بھی احتجاج کا ایک طریقہ ہے صرف بیان پر اکتفا نہ کریں بلکہ اس ظلم عظیم کے مقابلے میں سفیروں کو بلاکر احتجاج کریں ہم سب کی ذمہ داری ہے کہ اس مسئلے کے آگے چپ سادھ نہ لیں
یہ تمام چیزیں ضروری ہیں یہ معنوی و نفیساتی اعتبار سے دوست و دشمن دونوں کے محاذ کے لئے ضروری ہیں امریکی پرایگمٹیک ہیں وہ عملی اقدام کرتے ہیں ،جب بھی ان کے مفادات سامنے آئے ہیں انہوں نے تمام معاہدوں کو روندا ہے
ٹرمپ نے کہا کہ یہ اعلان اسرائیل کے مفاد میں ہے ہم نے ثابت کرنا ہے کہ یہ اعلان اسرائیل کے لئے نقصاندہ ہے
ٹرمپ نے کہا کہ یہ اعلان امن کے عمل کو آگے بڑھائے گا ہم نے ثابت کرنا ہے کہ یہ اعلان امن کو تباہ کرتا ہے
جن کے اسرائیل کے ساتھ تعلقات ہیں انہیں چاہیے کہ سفیروں کو واپس بھیج دیں اور سفارتخانے بند کردیں
فلسطین اور عربوںکواسرائیل کے ساتھ مذاکرات کے عمل کو بند کردینا چاہیے کیونکہ وہ اس پر یقین رکھتے ہیں گرچہ ہم تو ان مذاکرات پر یقین نہیں رکھتے تھے ۔
اعلان کردیا جائے کہ قدس فلسطین کا دارالحکومت ہے میں یہاں صرف ایسے موقف اختیار کرنے کی بات کررہاہوں جوسکتے ہیں اور ممکن ہیں
عرب لیگ اور او آئی سی کی کانفرنسوں کے لئے مشورہ یہ ہے کہ ایک واضح شفاف قرارداد لائی جائے کہ جس میں کھلے اور قاطعانہ انداز سے کہا جائے کہ قدس فلسطین کا دارالحکومت ہے اور یہ مسئلہ ناقابل بحث و گفتگو ہے
اگر فلسطینی عوام انتفاضہ کا اعلان کرےجیساکہ وہ کہہ رہے ہیں، تو عالم اسلام اور عربوں کو چاہیے کہ اس انتفاضہ کی مکمل حمایت کریں ۔سب سے بڑا اور مضبوط جواب فلسطینیوں کا انتفاضہ اور اوآئی سی اور عرب لیگ کی جانب سے قدس کو بعنوان فلسطینی دارالحکومت کا اعلان ہے
مت مسلمہ کو چاہیے کہ اس وقت اپنے اندرونی تمام اختلافات کو بھلا دیں تمام جنگوں کو روک دیں جیسے یمن میں جنگ روک دیں مذاکرات کی میز پر آئیں کیونکہ آج آپ کے مقدسات خطرے میں ہیں آپ کا قبلہ اول خطرے میں ہے
میں لبنان کی عوام سے کہتا ہوں کہ وہ اس مسئلے اور فلسطین عوام کی حمایت میں جس قدر ممکن ہوسوموار کے دن بڑے سے بڑا احتجاج کریں ،کہ جس میں بڑے چھوٹے مرد عورت پورے لبنان میں احتجاج کریں جس کا عنوان ’’قدس کا دفاع ‘‘اور ’’مقدسات کا دفاع‘‘ ہوگا فلسطینی عوام کے ساتھ اظہار یکجہتی ہوگا
ہم فلسطینیوں کے انتفاضہ اور احتجاج کو سلام پیش کرتے ہیں ہم ان کے ساتھ ہیں ہمیں یاد رکھنا چاہیے کہ عیسی ان تکرھوا شیئا و خیرلکم ۔۔ہمیں چلینج کو فرصت میں بدلنا ہے ہمیں خطرات کو مواقع میں بدلنا ہے لیکن اس کے لئے عمل کرنے کی ضرورت ہے کام کرنے کی ضرورت ہے سب سے بڑے چلینج کو بڑے موقع و فرصت میں بدلا جاسکتاہے اگر مضبوط ارداہ اور عمل ہو تو وسلام علیکم و رحمۃ اللہ
محسن نقوی
*حسین*ؑ
میری محبتوں کی عقیدت وصول کر.
آیا ہوں رفعتوں کی تمنا لیے ہوئے.
میرا خلوص میری دعائیں قبول کر.
پہلے بھی میری خاک ہے نبیوں سے شرمسار.
میری حدوں سے جلد گزر جا با احتیاط.
میں کربلا ہوں میری تباہی سے ہوشیار.
تجھ کو خبر نہیں کہ میں عیسیٰ کا ناز ہوں.
میں نے تو بچپنے میں فرشتوں کو پر دیے.
اپنا مرض بتا میں بڑا کارساز ہوں.
شاید تجھے خبر نہیں میرے جنون کی.
گرمی سے جاں بلب ہیں تیرے قافلے کے لوگ.
لیکن میری رگوں میں ضرورت ہے خون کی.
لایا ہوں تیرے واسطے پیغام زندگی.
میں خود اجڑ کے تجھ کو بساوں گا اس طرح.
تیری سحر بنے گی میری شام زندگی.
اک پل میں سب کے صبر کے ساغر چھلک گئے.
تو تازہ دم سہی مگر اتنا خیال کر.
میری اداسیوں سے پیمبر بھی تھک گئے.
ممکن نہیں کہ دید کے بدلے شنید لوں.
تجھ کو سنوارنے کی تمنا بھی ضد بھی ہے.
اب طے یہ ہو چکا ہے تجھے میں خرید لوں.
لیکن یہ حوصلہ یہ محبت کمال ہے.
نسخے سبھی درست سہی خواہشیں بجا.
میں کیا کروں کہ تو کوئی زہرا کا لال ہے.
گستاخیاں نہ کر کہ شہہ مشرقین ہوں.
لے اب لگا رہا ہوں تیری خاک پر خیام.
اتنا بھڑک رہی ہے تو سن میں حسین ہوں.
⭐ *اس اہم ترین آرٹیکل کو شرعی وظیفہ سمجھتے ہوئے زیادہ سے زیادہ شئر کریں*
اس میں نہ ایران ملوث تھا اور نہ کوئی شیعہ۔۔۔
یاد رہے یہاں بھی ایران اور کوئی شیعہ ملوث نہیں پایا گیا
مختلف اعداد و شمار کے مطابق عبد العزیز بن آل سعودکی فورسز نے 45000 کے قریب سنی مسلمانوں کا جس بیہمانہ اور سفاکانہ انداز میں قتل عام کیا اسکی مثال عرب قبائل کی تاریخ میں نہیں ملتی۔
یہاں بھی کسی قسم کی ایرانی اور شیعہ مداخلت نظر نہیں آتی
یادرہے اس سارے معاملے میں نہ ایران ملوث ہے نہ کوئی شیعہ
یہاں بھی ایران یا کسی شیعہ کا ذکر نہیں۔
اس دوران بھی ایران اور شیعہ کا ذکر نہیں ملتا۔
اب یہاں بھی نہ ایران نہ کوئی شیعہ
یہاں بھی ایران اور کسی شیعہ کی مداخلت نظر نہ آئی
البتہ یہاں سعودی عرب کھل کر کہتا نظر آتا ہے کہ ایران عرب ممالک کے مسائل میں مداخلت کر رہا ہے
ایران کے خلاف جنگ کا سبب ایران کی فلسطین حمایت پالیسی تھی
اس سعودی سازش میں کوئی شیعہ اور ایران کہیں نظر نہیں آتا
یہاں بھی نہ ایران نہ شیعہ
حسب سابق یہاں بھی ایرانی یا کسی شیعہ کی مداخلت کا سراغ نہیں ملتا
یہاں صدام کی حکومت کے خاتمے سے عراقی شیعہ اور کرد فائدہ اٹھاتے نظر آتے ہیں کیونکہ یہی دو گروہ تھے جو صدام کے دور حکومت میں مسلسل صدامی ظلم کا نشانہ بنتے رہے۔
اس ساری تباہی میں نہ ایران ہے نہ کوئی شیعہ بلکہ فقط اور فقط وہابی تنظیمیں ہیں
یادرہے کہ یہ سب کارنامے سلفی مذہب وہابی تنظیموں کے ہیں نہ کہ ایران یا کسی شیعہ کے
*یہ وہ تمام معلومات ہیں کہ جو تمام عربی غربی(یورپی)تحقیقات اور میڈیا رپورٹس میں موجود ہیں اور تاریخی اعتبار سے قابل وثوق بھی ہیں*
*اب میری آپ سے التماس ہے کہ خطے میں مسلمانوں اور عرب دنیا کیلئے شیعہ اور ایرانی خطرے کے متعلق تحقیقات میں میری مدد کریں*
میں خاک کو شفا بناتا ہوں...میں عباد اللہ کا پدر ہوں...میں حسین ہوں.
آپ کے پاس کون سی قوت ہے
کہ جس کی بنا پر آپ ایک شخص کو اپنا تن من دھن سب کچھ قربان کرنے کے لیے تیار کر لیتے ہیں....
ایک ماں سب کچھ قربان کر کے اپنی اولاد بچاتی ہے آپ اسے اولاد قربان کرنے پر بھی راضی کر لیتے ہیں...
ایک بیوی ہر چیز برداشت کر لیتی ہے پر اپنے سھاگ پر انچ نہیں آنے دیتی آپ اسے اپنا سھاگ کو بھی میدان مین بھیجنے پر تیار کر لیتے ہیں...
ایک غریب جس کے بچے بھوک سے بلک رہے ہوں کے لیے بچوں کو کھانا کھلانا بہت اہم ہے وہ بھی سارا سال فاقے کرتا ہے لیکن پیسے جوڑ کر آپ کی مجلس کے لیے اہتمام کر لیتا ہے....
ایک شخص جو خود اپنی جان کو خطرات سے دور رکھنا چاہتا ہے پرآشوب و ناامنی کے زمانے مین آپ کی زیارت کو پہنچ جاتا ہے...
ایک بیمار جو بستر سے آٹھ کر رفع حاجت کے لیے نہیں جا سکتا آپ کے لیے 80 کلومیٹر کا پیدل سفر کر کے نجف سے کربلا پہنچ جاتا ہے....
ایک شخص جو دمے کا مریض ہے اس خاک و گرد کو شفا مان لیتا ہے جو آپ کے زائرین کے پیرون سے اڑتی ہے...
ایک امیر جس کا کام پیسے سے پیسا بنانا ہے وہ ساری دولت سمیٹ کر آپ کے زائرین کی راہ میں سبیل و طعام کا بندوبست کرنے آ جاتا ہے...
جسے سونے کو نرم و ریشمین بستر کے علاوہ کچھ اور راس نہیں وہ آپ کے لیے زمین و خاک پر سو جاتا ہے....
جسے موسم کی شدت برداشت نہیں اسے آپ ہر موسم کی پرواہ سے لا پرواہ کر دیتے ہیں....
اور کہاں تک لکھوں کہ سفینہ چاہیے اس بحر بیکراں کے لیے ....
بالاخر آپ ہیں کیا.... آپ کے پاس کیا ہے....؟
ایک مدہم مگر روح کو گرما دینے والی آواز سنائی دے رہی ہیں....
میں کعبۃ القلوب ہوں...
میں مرکز پرکار عشق ہوں...
میں عاشقوں کا امام ہوں...
میں سب کچھ لٹا کر دنیا کا سب سے امیر شخص بنانا سیکھاتا ہوں...
میں ہر شریف آنکھ کا مکین ہوں...
میں ہر قلب نازلین کی دھڑکن ہوں...
میں سید الاحرار ہوں...
میں امام اشجان ہوں...
میں دلوں میں انقلاب و تحول برپا کر سکتا ہوں...
میں دنیا کو ایک دن میں اپنے در پر سمیٹ سکتا ہوں...
میں اپنی خاموشی سے دنیا کو مبہوت کر سکتا ہوں...
میں اپنے ایک استغاثے سے دنیا سے لبیک کہلوا سکتا ہوں... میں اپنی ایک سسکی سے دنیا کو رلا سکتا ہوں....
میں اپنی نگاہ کی ایک جننش سے سالوں کے گناہ بخشوا سکتا ہوں...
میں خاک کو شفا بناتا ہوں...
میں عباد اللہ کا پدر ہوں...
میں حسین ہوں.


