محسن نقوی
__
*حسین*ؑ
*حسین*ؑ
تجھ پر میرا سلام ہو اے دشت بے گیاہ.
میری محبتوں کی عقیدت وصول کر.
آیا ہوں رفعتوں کی تمنا لیے ہوئے.
میرا خلوص میری دعائیں قبول کر.
میری محبتوں کی عقیدت وصول کر.
آیا ہوں رفعتوں کی تمنا لیے ہوئے.
میرا خلوص میری دعائیں قبول کر.
*کربلا*
اے اجنبی ٹھہر مجھے اتنی دعا نہ دے.
پہلے بھی میری خاک ہے نبیوں سے شرمسار.
میری حدوں سے جلد گزر جا با احتیاط.
میں کربلا ہوں میری تباہی سے ہوشیار.
پہلے بھی میری خاک ہے نبیوں سے شرمسار.
میری حدوں سے جلد گزر جا با احتیاط.
میں کربلا ہوں میری تباہی سے ہوشیار.
*حسین*ؑ
تیرے اجاڑ پن کا میرے پاس ہے علاج.
تجھ کو خبر نہیں کہ میں عیسیٰ کا ناز ہوں.
میں نے تو بچپنے میں فرشتوں کو پر دیے.
اپنا مرض بتا میں بڑا کارساز ہوں.
تجھ کو خبر نہیں کہ میں عیسیٰ کا ناز ہوں.
میں نے تو بچپنے میں فرشتوں کو پر دیے.
اپنا مرض بتا میں بڑا کارساز ہوں.
*کربلا*ؑ
میرا یہ مشورہ مسافر پلٹ ہی جا.
شاید تجھے خبر نہیں میرے جنون کی.
گرمی سے جاں بلب ہیں تیرے قافلے کے لوگ.
لیکن میری رگوں میں ضرورت ہے خون کی.
شاید تجھے خبر نہیں میرے جنون کی.
گرمی سے جاں بلب ہیں تیرے قافلے کے لوگ.
لیکن میری رگوں میں ضرورت ہے خون کی.
*حسین*
اے نینوا اداس نہ ہو حوصلہ نہ ہار.
لایا ہوں تیرے واسطے پیغام زندگی.
میں خود اجڑ کے تجھ کو بساوں گا اس طرح.
تیری سحر بنے گی میری شام زندگی.
لایا ہوں تیرے واسطے پیغام زندگی.
میں خود اجڑ کے تجھ کو بساوں گا اس طرح.
تیری سحر بنے گی میری شام زندگی.
*کربلا*
آئے تھے لوگ مجھ کو بسانے کے شوق میں.
اک پل میں سب کے صبر کے ساغر چھلک گئے.
تو تازہ دم سہی مگر اتنا خیال کر.
میری اداسیوں سے پیمبر بھی تھک گئے.
اک پل میں سب کے صبر کے ساغر چھلک گئے.
تو تازہ دم سہی مگر اتنا خیال کر.
میری اداسیوں سے پیمبر بھی تھک گئے.
*حسینؑ *
وہ لوگ انبیاء تھے مگر میں امام ہوں.
ممکن نہیں کہ دید کے بدلے شنید لوں.
تجھ کو سنوارنے کی تمنا بھی ضد بھی ہے.
اب طے یہ ہو چکا ہے تجھے میں خرید لوں.
ممکن نہیں کہ دید کے بدلے شنید لوں.
تجھ کو سنوارنے کی تمنا بھی ضد بھی ہے.
اب طے یہ ہو چکا ہے تجھے میں خرید لوں.
*کربلا*
ہر چند لا علاج ہیں میری اداسیاں.
لیکن یہ حوصلہ یہ محبت کمال ہے.
نسخے سبھی درست سہی خواہشیں بجا.
میں کیا کروں کہ تو کوئی زہرا کا لال ہے.
لیکن یہ حوصلہ یہ محبت کمال ہے.
نسخے سبھی درست سہی خواہشیں بجا.
میں کیا کروں کہ تو کوئی زہرا کا لال ہے.
*حسینؑ *
آہستہ بول اتنی دلیلیں نہ دے مجھے.
گستاخیاں نہ کر کہ شہہ مشرقین ہوں.
لے اب لگا رہا ہوں تیری خاک پر خیام.
اتنا بھڑک رہی ہے تو سن میں حسین ہوں.
گستاخیاں نہ کر کہ شہہ مشرقین ہوں.
لے اب لگا رہا ہوں تیری خاک پر خیام.
اتنا بھڑک رہی ہے تو سن میں حسین ہوں.
محسن نقوی
📅
November 11, 2017
پورا پڑھیں
میں خاک کو شفا بناتا ہوں...میں عباد اللہ کا پدر ہوں...میں حسین ہوں.
اے حسین ع
آپ کے پاس کون سی قوت ہے
کہ جس کی بنا پر آپ ایک شخص کو اپنا تن من دھن سب کچھ قربان کرنے کے لیے تیار کر لیتے ہیں....
ایک ماں سب کچھ قربان کر کے اپنی اولاد بچاتی ہے آپ اسے اولاد قربان کرنے پر بھی راضی کر لیتے ہیں...
ایک بیوی ہر چیز برداشت کر لیتی ہے پر اپنے سھاگ پر انچ نہیں آنے دیتی آپ اسے اپنا سھاگ کو بھی میدان مین بھیجنے پر تیار کر لیتے ہیں...
ایک غریب جس کے بچے بھوک سے بلک رہے ہوں کے لیے بچوں کو کھانا کھلانا بہت اہم ہے وہ بھی سارا سال فاقے کرتا ہے لیکن پیسے جوڑ کر آپ کی مجلس کے لیے اہتمام کر لیتا ہے....
ایک شخص جو خود اپنی جان کو خطرات سے دور رکھنا چاہتا ہے پرآشوب و ناامنی کے زمانے مین آپ کی زیارت کو پہنچ جاتا ہے...
ایک بیمار جو بستر سے آٹھ کر رفع حاجت کے لیے نہیں جا سکتا آپ کے لیے 80 کلومیٹر کا پیدل سفر کر کے نجف سے کربلا پہنچ جاتا ہے....
ایک شخص جو دمے کا مریض ہے اس خاک و گرد کو شفا مان لیتا ہے جو آپ کے زائرین کے پیرون سے اڑتی ہے...
ایک امیر جس کا کام پیسے سے پیسا بنانا ہے وہ ساری دولت سمیٹ کر آپ کے زائرین کی راہ میں سبیل و طعام کا بندوبست کرنے آ جاتا ہے...
جسے سونے کو نرم و ریشمین بستر کے علاوہ کچھ اور راس نہیں وہ آپ کے لیے زمین و خاک پر سو جاتا ہے....
جسے موسم کی شدت برداشت نہیں اسے آپ ہر موسم کی پرواہ سے لا پرواہ کر دیتے ہیں....
اور کہاں تک لکھوں کہ سفینہ چاہیے اس بحر بیکراں کے لیے ....
بالاخر آپ ہیں کیا.... آپ کے پاس کیا ہے....؟
ایک مدہم مگر روح کو گرما دینے والی آواز سنائی دے رہی ہیں....
میں کعبۃ القلوب ہوں...
میں مرکز پرکار عشق ہوں...
میں عاشقوں کا امام ہوں...
میں سب کچھ لٹا کر دنیا کا سب سے امیر شخص بنانا سیکھاتا ہوں...
میں ہر شریف آنکھ کا مکین ہوں...
میں ہر قلب نازلین کی دھڑکن ہوں...
میں سید الاحرار ہوں...
میں امام اشجان ہوں...
میں دلوں میں انقلاب و تحول برپا کر سکتا ہوں...
میں دنیا کو ایک دن میں اپنے در پر سمیٹ سکتا ہوں...
میں اپنی خاموشی سے دنیا کو مبہوت کر سکتا ہوں...
میں اپنے ایک استغاثے سے دنیا سے لبیک کہلوا سکتا ہوں... میں اپنی ایک سسکی سے دنیا کو رلا سکتا ہوں....
میں اپنی نگاہ کی ایک جننش سے سالوں کے گناہ بخشوا سکتا ہوں...
میں خاک کو شفا بناتا ہوں...
میں عباد اللہ کا پدر ہوں...
میں حسین ہوں.
آپ کے پاس کون سی قوت ہے
کہ جس کی بنا پر آپ ایک شخص کو اپنا تن من دھن سب کچھ قربان کرنے کے لیے تیار کر لیتے ہیں....
ایک ماں سب کچھ قربان کر کے اپنی اولاد بچاتی ہے آپ اسے اولاد قربان کرنے پر بھی راضی کر لیتے ہیں...
ایک بیوی ہر چیز برداشت کر لیتی ہے پر اپنے سھاگ پر انچ نہیں آنے دیتی آپ اسے اپنا سھاگ کو بھی میدان مین بھیجنے پر تیار کر لیتے ہیں...
ایک غریب جس کے بچے بھوک سے بلک رہے ہوں کے لیے بچوں کو کھانا کھلانا بہت اہم ہے وہ بھی سارا سال فاقے کرتا ہے لیکن پیسے جوڑ کر آپ کی مجلس کے لیے اہتمام کر لیتا ہے....
ایک شخص جو خود اپنی جان کو خطرات سے دور رکھنا چاہتا ہے پرآشوب و ناامنی کے زمانے مین آپ کی زیارت کو پہنچ جاتا ہے...
ایک بیمار جو بستر سے آٹھ کر رفع حاجت کے لیے نہیں جا سکتا آپ کے لیے 80 کلومیٹر کا پیدل سفر کر کے نجف سے کربلا پہنچ جاتا ہے....
ایک شخص جو دمے کا مریض ہے اس خاک و گرد کو شفا مان لیتا ہے جو آپ کے زائرین کے پیرون سے اڑتی ہے...
ایک امیر جس کا کام پیسے سے پیسا بنانا ہے وہ ساری دولت سمیٹ کر آپ کے زائرین کی راہ میں سبیل و طعام کا بندوبست کرنے آ جاتا ہے...
جسے سونے کو نرم و ریشمین بستر کے علاوہ کچھ اور راس نہیں وہ آپ کے لیے زمین و خاک پر سو جاتا ہے....
جسے موسم کی شدت برداشت نہیں اسے آپ ہر موسم کی پرواہ سے لا پرواہ کر دیتے ہیں....
اور کہاں تک لکھوں کہ سفینہ چاہیے اس بحر بیکراں کے لیے ....
بالاخر آپ ہیں کیا.... آپ کے پاس کیا ہے....؟
ایک مدہم مگر روح کو گرما دینے والی آواز سنائی دے رہی ہیں....
میں کعبۃ القلوب ہوں...
میں مرکز پرکار عشق ہوں...
میں عاشقوں کا امام ہوں...
میں سب کچھ لٹا کر دنیا کا سب سے امیر شخص بنانا سیکھاتا ہوں...
میں ہر شریف آنکھ کا مکین ہوں...
میں ہر قلب نازلین کی دھڑکن ہوں...
میں سید الاحرار ہوں...
میں امام اشجان ہوں...
میں دلوں میں انقلاب و تحول برپا کر سکتا ہوں...
میں دنیا کو ایک دن میں اپنے در پر سمیٹ سکتا ہوں...
میں اپنی خاموشی سے دنیا کو مبہوت کر سکتا ہوں...
میں اپنے ایک استغاثے سے دنیا سے لبیک کہلوا سکتا ہوں... میں اپنی ایک سسکی سے دنیا کو رلا سکتا ہوں....
میں اپنی نگاہ کی ایک جننش سے سالوں کے گناہ بخشوا سکتا ہوں...
میں خاک کو شفا بناتا ہوں...
میں عباد اللہ کا پدر ہوں...
میں حسین ہوں.
📅
November 11, 2017
پورا پڑھیں
اربعین کرنا ہے شاہ کربلائی کا
اربعین کرنا ہے شاہ کربلائی کا
لے کے داغ سینے پر شاہ کی جدائی کا
حق ادا کرے زینب کیسے اپنے بھائی کا
قافلہ اتر ایا، صبر کی خدائی کا
کربلا کے میداں میں فاطمہ کی جائی کا
اربعین کرنا ہے شاہ کربلائی کا
حق ادا کرے زینب کیسے اپنے بھائی کا
قافلہ اتر ایا، صبر کی خدائی کا
کربلا کے میداں میں فاطمہ کی جائی کا
اربعین کرنا ہے شاہ کربلائی کا
موت کے بیاں باں میں زندگی کا ماتم ہے
ظلم کے اندھیروں میں روشنی کا ماتم ہے
آنسوؤں کے طوفاں میں تشنگی کا ماتم ہے
اک بہن کے حصے میں ہر کسی کا ماتم ہے
اربعین کرنا ہے شاہ کربلائی کا
ظلم کے اندھیروں میں روشنی کا ماتم ہے
آنسوؤں کے طوفاں میں تشنگی کا ماتم ہے
اک بہن کے حصے میں ہر کسی کا ماتم ہے
اربعین کرنا ہے شاہ کربلائی کا
بھائی کیا سناؤں میں ہم پہ کیا ستم گزے
بعد عصر عاشورہ بے کفن تھے سب لاشے
شام غم کے جاتے ہی موت کے بڑھے سائے
چھین گئی ردا میری بھائی جل گئے خیمے
اربعین کرنا ہے شاہ کربلائی کا
بعد عصر عاشورہ بے کفن تھے سب لاشے
شام غم کے جاتے ہی موت کے بڑھے سائے
چھین گئی ردا میری بھائی جل گئے خیمے
اربعین کرنا ہے شاہ کربلائی کا
دور تک نگاہوں میں شام کا اندھیرا ہے
کربلا سے کوفہ تک حادثوں نے گھیرا ہے
جب سے نونہالوں نے منہ کو اپنے پھیرا ہے
مامتا کی گودی میں موت کا بسیرا ہے
اربعین کرنا ہے شاہ کربلائی کا
کربلا سے کوفہ تک حادثوں نے گھیرا ہے
جب سے نونہالوں نے منہ کو اپنے پھیرا ہے
مامتا کی گودی میں موت کا بسیرا ہے
اربعین کرنا ہے شاہ کربلائی کا
بعد کربلا بھائی ہر قدم قیامت تھی
بے ردا رسن بستہ راہ شام سے گزری
بھائی ہم تماشا تھے راستے تماشائی
ہر قدم دعا یہ تھی کاش موت آ جائے
اربعین کرنا ہے شاہ کربلائی کا
بے ردا رسن بستہ راہ شام سے گزری
بھائی ہم تماشا تھے راستے تماشائی
ہر قدم دعا یہ تھی کاش موت آ جائے
اربعین کرنا ہے شاہ کربلائی کا
بھائی قیدخانے کی تیرگی سے ہو آئے
آپ کی امانت کو ظلمتوں میں کھو آئے
خون گوشواروں کا آنسوؤں سے دھو آئے
یوں سکینہ بی بی کو سب اسیر رو آئے
اربعین کرنا ہے شاہ کربلائی کا
آپ کی امانت کو ظلمتوں میں کھو آئے
خون گوشواروں کا آنسوؤں سے دھو آئے
یوں سکینہ بی بی کو سب اسیر رو آئے
اربعین کرنا ہے شاہ کربلائی کا
سب سے جب جدا ہو کر جب مدینہ جاؤں گی
جا کے ماں کی تربت پر مرثیہ سناؤں گی
کربلا کے مقتل میں کیا ہوا بتاؤں گی
بھائی اپنے بازو کے نیل بھی دکھاؤں گی
اربعین کرنا ہے شاہ کربلائی کا
جا کے ماں کی تربت پر مرثیہ سناؤں گی
کربلا کے مقتل میں کیا ہوا بتاؤں گی
بھائی اپنے بازو کے نیل بھی دکھاؤں گی
اربعین کرنا ہے شاہ کربلائی کا
بھائی اب خدا حافظ قبر سے چلی زینب
بن تیرے گزارے گی کیسے زندگی زینب
آٹھ گئی فرید' آخر کہہ کے یاعلی زینب
رنج غم کی دنیا میں پھر سے کھو گئی زینب
اربعین کرنا ہے شاہ کربلائی کا
بن تیرے گزارے گی کیسے زندگی زینب
آٹھ گئی فرید' آخر کہہ کے یاعلی زینب
رنج غم کی دنیا میں پھر سے کھو گئی زینب
اربعین کرنا ہے شاہ کربلائی کا
📅
November 10, 2017
پورا پڑھیں
